Al-Risala · March 2003 · page

Conversions—Issues and Need for legislation

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳

مشورہ دینا بھی ہنسا ہے۔ کسی کے خلاف بری بات پھیلانا بھی ہنسا ہے۔ کسی سے نفرت کرنا بھی ہنسا ہے۔ ۸ دسمبر ۲۰۰۲ کی صبح کو میں اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ منوہر ہوٹل سے روانہ ہو کر مدینہ ایجوکیشن سنٹر پہنچا۔ یہاں میرا قیام اُس کے گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ یہ گیسٹ ہاؤس وسط شہر میں واقع ہے۔ اس لیے لوگ رات دن مسلسل آتے رہے اور لوگوں سے ملاقاتیں جاری رہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں الرسالہ پڑھتا ہوں ۔ مگر الرسالہ میں تکرار ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب آپ بوڑھے ہوگئے ہیں اور زیادہ باتیں آپ کے پاس نہیں ہیں اس لیے آپ پچھلی کہی ہوئی باتوں کو دہراتے رہتے ہیں۔

میں نے کہا کہ اگر آپ دہلی آئیں تو میں آپ کو ایک سوٹ کیس دکھاؤں گا۔ اس میں ہزاروں لکھے ہوئے صفحات موجود ہیں جو سب کے سب غیر مطبوعہ ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو آپ ہمارے رفیق کار مولانا ندیم احمد سے خط یا ٹیلی فون کے ذریعہ پوچھ لیجئے ۔ وہ آپ کو بتائیں گے۔ کیوں کہ آج کل میں املا کے ذریعہ انہیں سے مضامین لکھواتا ہوں۔

میں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ قرآن میں مضامین کی تکرار ہے۔ مثلاً آدم اور ابلیس کے قصہ کو قرآن میں کئی بار دہرایا گیا ہے۔ اس کا مقصد بات کو ذہن نشین کرنا ہے۔ جب کوئی بات ماحول کے خلاف کہی جائے تو لوگ اُس کو ایک بار کہنے سے سمجھ نہیں سکتے۔ مثلاً سوسال سے مسلمانوں کا ذہن احتجاج اور شکایت کی باتوں سے بھر دیا گیا تھا۔ اب میں لوگوں کی سوچ کو بدل کر انہیں صبر و اعراض کے اصول پر سوچنے والا بنانا چاہتا ہوں۔ اسی طرح سوسال سے مسلمانوں کا ذہن قومی طرز فکر سے بھر دیا گیا تھا اب ہم اُن کے اندر دعوتی طرز فکر لانا چاہتے ہیں۔ یہ لوگوں کی کنڈیشننگ (conditioning) کو توڑنا ہے اور کنڈیشننگ کو توڑنے کا کام اس طرح نہیں ہوسکتا کہ بات کو قانون کی زبان میں ایک بار کہہ دیا جائے۔

۸ دسمبر کی شام کا کھانا ڈاکٹر شیزان صاحب کے یہاں تھا۔ کھانے پر کئی لوگ اکٹھا ہوئے۔ یہاں لوگوں سے مختلف موضوعات پر گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ موجودہ زمانہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues

Printed page