Conversions—Issues and Need for legislation
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
Independence of the country, the ratio of Muslims in government jobs was about 30 per cent, which has now dropped to mere two per cent. یہ بلاشبہ ایک غلط رپورٹ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حیدر آباد میں مسلمانوں کی حالت ہر اعتبار سے ۱۹۴۷ء کے مقابلہ میں آج بہت زیادہ بہتر ہے۔ حتیٰ کہ خود مضمون نگار اگر اپنا جائزہ لیں تو یقیناً وہ پائیں گے کہ ۱۹۴۷ء میں اُن کے خاندان کی جو اقتصادی حالت تھی، اُس کے مقابلہ میں اب وہ بہت زیادہ بہتر ہو چکی ہے۔
جہاں تک سرکاری ملازمتوں میں کمی کا سوال ہے، اُس کی ذمہ داری تمام تر یہاں کے نام نہاد مسلم لیڈروں پر ہے۔ ۱۹۴۷ء میں یہاں کی انتہائی حد تک ناعاقبت اندیش قیادت نے علیحدہ حیدر آباد کی جو تحریک چلائی اُس کی وجہ سے یہاں کے مسلمانوں کا ذہن غلط طور پر یہ ہو گیا کہ انڈیا کا حصہ بننے کے بعد حیدر آباد میں مسلمان ہر قسم کے مواقع سے محروم ہو جائیں گے۔ اس بے بنیاد سوچ کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۹۴۸ء میں جب حیدر آباد انڈیا کا حصہ بنا تو بیشتر تعلیم یافتہ افراد غیر ضروری طور پر مایوسی کا شکار ہو کر حیدر آباد چھوڑ کر باہر کے ملکوں میں چلے گئے۔ انہی باہر جانے والوں میں خود تحریک حیدر آباد کے قائد بھی شامل تھے۔ ظاہر ہے کہ جب تعلیم یافتہ لوگ حیدر آباد چھوڑ کر چلے جائیں تو ملازمتوں میں اُن کا تناسب اپنے آپ گھٹ جائے گا۔
میں ذاتی طور پر اِس تحریک کو دیوانگی کی تحریک سمجھتا ہوں جو شکایت اور احتجاج اور پڑوسیوں کو دشمن بنانے کی بنیاد پر چلائی جائے۔ اِس قسم کی تحریک کے دو لازمی نقصانات ہیں۔ اول یہ کہ اِس سے منفی سوچ پیدا ہوتی ہے۔ اور منفی سوچ بلاشبہ ایک ذہنی خودکشی ہے۔ دوسرے یہ کہ تحریک اگر اپنے نشانہ کو پورا کرنے میں ناکام ہو جائے تو اُس سے متاثر لوگ سخت مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ مواقع کی فراوانی کے درمیان بھی وہ مواقع کو دیکھنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہی واقعہ ابتدائی طور پر حیدر آباد میں ۱۹۴۷ء کے بعد ہوا۔ اور یہی واقعہ پورے ملک میں اس طرح پیش آیا کہ آزادی کے بعد ہندوستان کے مسلمان تقریباً تیس سال تک مایوسی کی حالت میں رہے۔ ۱۹۷۱ء میں
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues