کار دنیا کسے تمام نہ کرد ہر کہ آمد عمارت نو ساخت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
بنگلہ دیش کا قیام اور پاکستان میں مسلمانوں کی باہمی خونریزی کے بعد اُن کی آنکھ کھلی اور پھر انہوں نے ہندوستان میں اپنی جگہ بنانا شروع کیا۔
مدرسہ کے طلبہ کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ ’’بڑوں‘‘ کے بارے میں قوموں کے اندر دو قسم کے نظریات ہوتے ہیں۔ ایک وہ جس کی نمائندگی کرتے ہوئے عنترہ نے کہا: ہل غادر الشعراء من متردم (پچھلے شعراء نے کیا کوئی جگہ پیوند لگانے کی باقی چھوڑی ہے)۔ یعنی وہ سب کچھ کہہ گئے ہیں۔ اب کسی شاعر کے لیے کوئی چیز باقی نہیں رہی کہ اس پر وہ کچھ کہے۔
اس معاملہ میں دوسرا نقطہ نظر وہ ہے جس کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک فارسی شاعر نے کہا کہ دنیا کا کام کسی نے مکمل نہیں کیا جو بھی آیا اس نے نئی عمارت بنائی:
کار دنیا کسے تمام نہ کرد ہر کہ آمد عمارت نو ساخت
بدقسمتی سے ہمارے یہاں کسی کو بڑا سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو تنقید سے بالاتر سمجھ لیا جائے۔ حالانکہ بڑے کی صحیح تعریف یہ ہے کہ اس کا عمل ایک بوسٹ (boost) کا کام کرے۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں صحت مند نقطۂ نظر وہ ہے جس کو برناڈ شا نے ان الفاظ میں کہا تھا کہ میرا قد شیکسپئر سے کم ہے مگر میں شیکسپئر کے کندھوں پر کھڑا ہوا ہوں:
I am smaller in stature than Shakespeare but I stand upon his shoulder. میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں شبلی نعمانی اور حمید الدین فراہی نے اپنے اپنے میدان میں بڑے کام انجام دئے ہیں۔ مگر یہ سمجھ لینا غلط ہوگا کہ ان کے کام میں کوئی بات قابل تنقید نہیں۔ صحیح مزاج یہ ہے کہ آپ اس طرح سوچیں کہ شبلی اور فراہی، ابن تیمیہ اور شاہ ولی اللہ کے کندھے پر کھڑے ہوئے۔ اب آپ شبلی اور فراہی کے کندھے پر کھڑے ہوں اور اگلی نسل آپ کے کندھے پر کھڑی ہو ۔ اس طرح ترقی کا یہ سلسلہ چلتا رہے، یہاں تک کہ علم کا وہ قطب مینار بن جائے جس کی بلندی آسمان تک پہنچی ہوئی ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues