Al-Risala · March 2003 · page

کار دنیا کسے تمام نہ کرد ہر کہ آمد عمارت نو ساخت

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳

مسلمانوں کی ایک مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ میں اور میرے گھر والے ہر سال شوّال کے مہینے کے چھ روزے پابندی کے ساتھ رکھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ شوّال کے چھ روزے کا ذکر اگرچہ حدیث میں آیا ہے مگر اُس کا زیادہ اہتمام مجھے اپنے مطالعہ کے مطابق، درست نظر نہیں آتا۔ صحابہ سے اُس کا یہ اہتمام ثابت نہیں۔ یہ سُن کر ایک صاحب بگڑ گئے۔ اُنہوں نے پرجوش انداز میں کہنا شروع کیا کہ آج آپ شوّال کے روزہ کے بارے میں ایسا کہہ رہے ہیں، کل آپ کہیں گے کہ رمضان کے مہینہ کے روزے میرے نزدیک ضروری نہیں۔ اس کے بعد آپ کہیں گے کہ روزانہ پانچ وقت کی نماز میرے نزدیک ضروری نہیں۔ اس طرح آپ ہر چیز کو ختم کرتے جائیں گے۔ یہاں تک کہ آخر میں صرف آپ کا الرسالہ رہ جائے گا۔

اُن کی اس نامنصفانہ بات پر مجھے غصہ آ گیا۔ مگر میں دل ہی دل میں استغفر اللہ کہہ کر خاموش ہو گیا۔ میرا طریقہ ہے کہ جب مجھے غصہ آتا ہے تو میں چپ ہو جاتا ہوں۔ میرے تجربہ کے مطابق، غصہ کا بہترین علاج یہ ہے کہ جب غصہ آئے تو آدمی چپ ہو جائے اور اپنی جگہ سے ہٹ جائے۔ اور غصہ والی بات کو بھلا کر دوسری بات سوچنا شروع کر دے۔

جہاں تک شوّال کے چھ روزوں کا معاملہ ہے تو میں نے جو بات کہی وہ شرعی طور پر بالکل درست تھی ۔ یہ روایت ترمذی ، ابن ماجہ اور مسلم میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : عن ابی ایوب الانصاری، ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : من صام رمضان ثم اتبعہ ستاً من شوّال كان كصيام الدهر (صحیح مسلم، کتاب الصيام، باب استحباب صوم ستة أيام من شوال اتباعاً لرمضان) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے رمضان کے مہینہ کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد اُس نے شوّال کے چھ روزے اور رکھے تو یہ اُس کے لیے پورے سال روزہ رکھنے کے برابر ہو گا۔

یحییٰ بن شرف النووی (وفات ۶۷۶ ھ ) شام میں پیدا ہوئے ۔ وہ مشہور عالم دین ہیں۔ فقہ اور حدیث میں امام کا درجہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے مختلف دینی موضوعات پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ اُن

‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues

Printed page