Al-Risala · March 2003 · page

کار دنیا کسے تمام نہ کرد ہر کہ آمد عمارت نو ساخت

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳

میں سے ایک المنہاج فی شرح صحیح مسلم ہے جو پانچ جلدوں پر مشتمل ہے۔ النووی اپنی اس کتاب میں مذکورہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: فیہ دلالة صريحة لمذهب الشافعى و أحمد و داؤد وموافقيهم في استحباب صوم هذه الستة وقال ابو مالك وابو حنيفة يكره ذلك۔ قال مالك ما رأيت احداً من اهل العلم يصومها قالوا فیکرہ لئلا يظن وجوبہ۔(۵۶)

ترجمہ: اس میں شافعی اور احمد اور داؤد اور اُن کے موافقین کے مسلک کی کھلی دلیل ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ چھ روزے مستحب ہیں۔ اور مالک اور ابوحنیفہ کا قول ہے کہ یہ روزے مکروہ ہیں۔ امام مالک نے موطّا میں کہا ہے کہ میں نے کسی اہل علم کو نہیں دیکھا کہ وہ یہ روزے رکھتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ مکروہ اس لیے ہیں کہ کہیں اُس کو واجب نہ سمجھ لیا جائے۔ یہ معاملہ در اصل شفٹ آف ایمفیسس (shift of emphasis) کا ہے۔ یعنی زیادہ اہم کو کم اہم اور کم اہم کو زیادہ اہم بنا لینا ۔ مثلاً روزہ میں اُس کی روح کے مقابلہ میں تعداد کو زیادہ اہم لینا ۔ اسی طرح دعوتِ حق کے مقابلہ میں سوشل سروس کو زیادہ بڑا درجہ دے دینا ۔ رسول کی اتباع کے مقابلہ میں رسول کی نعت خوانی کو زیادہ اہم سمجھ لینا۔ قرآن میں تدبّر کے مقابلہ میں قرآن کی لفظی تلاوت کو زیادہ بڑا درجہ دے دینا ۔ کلمۂ توحید کی حقیقت کو اپنے اندر اتارنے کے بجائے کلمہ کے الفاظ کی تکرار کو زیادہ اہم بنا لینا۔ افراد کی اصلاح کے مقابلہ میں حکومت کی اصلاح کے نام پر سیاسی تحریک چلانا ، وغیرہ۔

صبح کے وقت ریڈیو پاکستان پر وہاں کے کسی وزیر کی تقریر آرہی تھی۔ انہوں نے پر جوش طور پر کہا کہ کشمیر کے ایشو کو لے کر بھارت ہمارے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرتا ہے۔ حالاں کہ ہمارا کہنا صرف یہ ہے کہ کشمیر کے معاملہ کو اقوام متحدہ کے رزولوشن (۱۹۴۸) کی روشنی میں طے کیا جائے۔ اس پر جوش تقریر کو سن کر میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ ایک غیر عملی اور غیر حقیقت پسندانہ مطالبہ ہے۔ پاکستان کے لیڈر لمبی مدت سے اس قسم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مگر اس کا کوئی نتیجہ نہ اب تک نکلا اور نہ آئندہ اس کا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues

Printed page