کار دنیا کسے تمام نہ کرد ہر کہ آمد عمارت نو ساخت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
کوئی امکان ہے کہ اس کا کوئی مثبت نتیجہ اُن کے حق میں نکلے۔
پھر میں نے کہا کہ یہود کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ نے اپنے پیغمبر کی زبان سے فرمایا تھا: يقوم ادخلوا الارض المقدسة التي كتب الله لكم (المائدہ ۲۱)۔ یعنی اے میری قوم، اس پاک زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے۔ اب اگر فلسطین کے یہودی اس قرآنی آیت کو لے کر یہ کہیں کہ ہم اپنے وطن سے باہر ڈائسپورا (diaspora) میں تھے، پھر خود تمہارے قرآن کے مطابق، ہم واپس آ کر فلسطین میں آباد ہو گئے۔ خود تمہارے قرآن کے مطابق، یہ ہمارا قومی حق تھا۔ اب تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم ہمیں اپنے قومی حق سے محروم کرنے کی کوشش کرو۔ ظاہر ہے کہ موجودہ یہودی اگر اس قدیم نوشتہ کا حوالہ دے کر فلسطین میں اسرائیل کے قیام کو جائز قرار دیں تو کوئی بھی مسلمان اس کو تسلیم نہیں کرے گا۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ میں کچھ یہود قبائل آباد تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد ایک اعلانیہ (declaration) جاری کیا جس کو عام طور پر صحیفہ المدینہ کہا جاتا ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے لوگوں کے بارہ میں یہ اعلان فرمایا تھا کہ لليهود دينهم وللمسلمين دينهم (سیرت ابن کثیر ۲/ ۳۲۲) یعنی یہاں کے یہود کے لیے اُن کا دین اور یہاں کے مسلمانوں کے لیے اُن کا دین۔
پیغمبر اسلام کا جاری کردہ یہ صحیفہ مدینہ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے پُر فخر طور پر اُس کو تاریخ عالم کا پہلا تحریری دستور قرار دیا ہے۔ اب اگر آج کے یہود یہ کہیں کہ یہ پیغمبرانہ صحیفہ مدینہ میں ہمارے وجود اور ہمارے حقوق کو تسلیم کرتا ہے اس لیے ہم کو حق ملنا چاہئے کہ ہم مدینہ میں داخل ہو کر دوبارہ وہاں اپنی بستیاں بنائیں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ وہاں رہیں تو مسلمان کبھی اس قسم کے مطالبہ کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے معاملات قدیم تاریخی دستاویزات کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے بلکہ وہ وقت کے حقائق کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔ قرآن کی مذکورہ آیت یا صحیفہ مدینہ کی مذکورہ دفعہ اب
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues