کار دنیا کسے تمام نہ کرد ہر کہ آمد عمارت نو ساخت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
یہود کے لیے ایک غیر متعلق چیز بن چکی ہے۔ آج کے یہودان قدیم الفاظ کا حوالہ دے کر اپنے لیے کچھ نہیں پا سکتے۔ ٹھیک اسی طرح اقوام متحدہ کے قدیم رزولیوشن کا حوالہ پاکستان کے لیڈروں کے لیے سراسر غیر مفید ہے۔ خود اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو فی عنان کہہ چکے ہیں کہ یہ قدیم رزولیوشن اب اپنا ریلیونس (relevence) کھو چکا ہے۔ ایسی حالت میں پاکستانی لیڈروں کو جاننا چاہئے کہ اقوام متحدہ کے رزولیوشن کے بیس سال بعد ہونے والا شملہ ایگریمنٹ (۱۹۷۲) اس معاملہ میں پچھلی کاغذی دستاویزات کو منسوخ کر چکا ہے۔ اب اُن کے پاس قابل حوالہ چیز شملہ ایگریمنٹ ہے، نہ کہ اقوام متحدہ کا رزولیوشن۔
ایک اخبار میں ایران کے بارہ میں ایک رپورٹ دیکھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ آج کل ایران کے نوجوانوں میں ایک نیا ذہن اُبھر رہا ہے۔ وہ مانگ کر رہے ہیں کہ ہم کو مذہبی ریاست نہیں چاہئے بلکہ ہم کو ترقی پسند ریاست چاہئے۔ مغربی نیوز ایجنسی کی اس رپورٹ میں بظاہر یہ تاثر دیا گیا تھا کہ اسلام دور قدیم کا ایک مذہب تھا، دور جدید میں اب وہ ایک غیر متعلق چیز بن کر رہ گیا ہے، حتی کہ خود مسلمانوں کی نئی نسلیں اب اس قدیم نظام سے بیزار ہو رہی ہیں۔
اس اخباری رپورٹ کو لے کر ایک صاحب نے کہا کہ مغربی نیوز ایجنسیاں اسی طرح اسلام کو بدنام کرتی رہتی ہیں۔ وہ اسلام کو ایک فرسودہ نظام ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس طرح وہ یہ تاثر دیتی ہیں کہ اسلام کے مقابلہ میں جدید مغربی نظام زیادہ بہتر ہے۔ میں نے کہا کہ اس نامطلوب صورت حال کی ذمہ داری خود مسلم لیڈروں پر ہے، نہ کہ مغربی میڈیا پر۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اکثر مسلم ملکوں میں یہ ہوا کہ وہاں کے انتہا پسند (radical) رہنما اسلامی نظام قائم کرنے کے شوق میں اچانک سخت تبدیلیاں نافذ کرنے لگے۔ جب کہ یہ کام صرف تدریجی طور پر انجام دیا جا سکتا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ اسلام میں پہلے ذہن بنایا گیا، اُس کے بعد احکام اتارے گئے۔ اس کے برعکس اگر شروع ہی میں یہ حکم آتا کہ تم لوگ زنا کو چھوڑ دو اور شراب کو چھوڑ دو تو لوگ کہتے کہ : لا ندع الزنا ابداً و لا ندع الخمر ابداً۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues