Al-Risala · January 2003 · page

Speed thrills but kills.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

دوپہر کے وقت پرمارتھ نکیتن پہنچے۔ یہاں کے آشرم میں تقریباً ایک ہزار کمرے ہیں۔ مجھے یہاں کمرہ نمبر ۲۱۵ میں ٹھہرایا گیا۔

سب سے پہلے میں نے غسل کیا۔ اسی کے بعد ہم لوگوں کو دوپہر کا کھانا کھلایا گیا۔ کھانا بالکل سادہ تھا، اس کے ساتھ وہ صحت بخش اور زود ہضم تھا۔ قدیم تصور کے مطابق، کھانا صرف دو مقصد کے لیے ہوتا تھا_ لذت اور شکم سیری۔ مگر موجودہ سائنسی زمانہ میں دوا اور تصور زیادہ اہم سمجھے جانے لگے ہیں_ اور وہ ہیں متوازن خوراک (balanced diet) اور غذائی اجزاء (nutritive value) کا حامل ہونا۔

رشی کیش ہندو دھرم کے بڑے مرکزوں میں سے ایک مرکز ہے۔ یہاں کا موجودہ پروگرام ایک ایسا پروگرام تھا جس میں ہندو دھرم کے بڑے بڑے نمائندے شریک ہورہے تھے۔ یہاں ہندو مذہب کا ایک مکمل مظاہرہ متوقع تھا۔ اس لیے میں بعض دوسرے پروگراموں کو کینسل کرکے رشی کیش آیا تاکہ ہندو مذہب کو قریب سے دیکھ سکوں اور اس کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کروں۔ یکم جون کی شام کو مغرب کے بعد افتتاحی پروگرام تھا۔ میں جس آشرم میں ٹھہرا تھا وہ گنگا کے عین کنارے تھا۔ یہاں گنگا کے اندر کشتیوں کی مدد سے بہت بڑا پلیٹ فارم بنایا گیا تھا۔ چاروں طرف دور دور تک روشنیاں جگمگاتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ ممتاز ہندو رہنما گنگا کے کنارے مخصوص نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ فضا میں لاوڈ اسپیکر پر گائے جانے والے بھجن کی آواز گونج رہی تھی۔ اس بھجن کا ایک حصہ جو بار بار دہرایا جارہا تھا وہ یہ تھا۔ میا گنگا تم ہی داتا۔

ایک طرف یہ الفاظ فضا میں گونج رہے تھے اور دوسری طرف میں یہ دیکھ رہا تھا کہ گنگا ہمالیہ پہاڑ سے اتر کر تیزی کے ساتھ میدانی علاقے کی طرف بہہ رہی تھی۔ چوں کہ یہاں گنگا ڈھلوان پر ہوتی ہے اس لیے یہاں اس کا بہاؤ بہت تیز ہوتا ہے۔ اس کا مسلسل بہتا ہوا پانی اپنی پرشور آواز کے ساتھ گویا یہ کہہ رہا تھا کہ وہ کسی کی طرف سے مسخر کیا ہوا ہے۔ وہ ایک برتر طاقت کے حکم کے تحت ہے۔ ایک طرف ہزاروں لوگ گنگا کی پوجا کے لیے ہاتھ جوڑے اس کے سامنے کھڑے ہوئے تھے اور دوسری طرف خود

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page