کار دنیا کسے تمام نہ کرد ہر کہ آمد عمارت نو ساخت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
(کتاب فضائل القرآن، باب تالیف القرآن) یعنی ہم تو کبھی زنانہ چھوڑیں گے اور ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے۔
عین یہی بات موجودہ زمانہ کے مسلم ملکوں میں پیش آئی ہے۔ نا عاقبت اندیش مسلم لیڈروں نے افراد سازی اور معاشرہ سازی سے پہلے شرعی قوانین نافذ کر دیے۔ اس غیر حکیمانہ طریقہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم کو اسلام نہیں چاہیے، ہم کو ترقی پسند ریاست چاہئے۔ شام کا کھانا مولانا اسحق کمال قادری کے گھر پر تھا۔ یہاں لوگوں سے مختلف دینی اور ملی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ یہاں مولانا اسحق صاحب کی رہائش ایک صاف ستھرے فلیٹ میں ہے۔ یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ یہ فلیٹ ایک مسلمان تاجر کا ہے۔ انہوں نے کسی کرایہ یا معاوضہ کے بغیر اس کو مولانا اسحق صاحب کے استعمال کے لیے دے دیا تھا۔ وہ یہاں اپنے بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس فلیٹ میں ٹیلی فون بھی موجود تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ ٹیلی فون بھی ایک مسلمان تاجر نے اپنی طرف سے اُن کے یہاں لگوایا ہے۔ مسلمان تاجروں میں اہلِ دین کی خدمت کا یہ مزاج اگر ہر جگہ پیدا ہو جائے تو وہ بہت زیادہ مفید ہوگا۔
مولانا اسحق کمال قادری کے اندر تقریر کا اچھا ملکہ ہے۔ وہ ٹکراؤ کے بغیر کام کرنے کا اچھا سلیقہ رکھتے ہیں ۔ وہ تنقید بھی کرتے ہیں تو اُن کی تنقید بھی ایسے خوبصورت انداز میں ہوتی ہے کہ کوئی اُس کو بُرا نہیں مانتا۔ انہوں نے ایک رنگین تولیہ مجھے تحفہ میں پیش کیا۔ میں نے اُسی وقت یہ تولیہ اُن کے چھوٹے بچے کو اوڑھا دی اور اُس کو دعائیں دیں۔
حیدر آباد میں کئی اردو اخبارات نکلتے ہیں۔ اُردو اخبارات کے لحاظ سے غالباً صرف حیدر آباد کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ وہاں ایک قسم کا صحافت کلچر وجود میں آچکا ہے۔ یہ بات شاید کسی اور ہندوستانی شہر میں موجود نہیں۔ یہاں کئی اردو اخبارات نکلتے ہیں۔ مثلاً رہنمائے دکن ، سیاست ، منصف ، عوام، وغیرہ ۔ حیدر آباد میں قیام کے دوران ان اخبارات کا مطالعہ جاری رہا۔
روزنامہ عوام کے شمارہ ۱۰ دسمبر ۲۰۰۲ کے آخری صفحہ پر حیدر آباد کی ایک درد ناک خبر پڑھنے کو
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues