Al-Risala · March 2003 · page

کار دنیا کسے تمام نہ کرد ہر کہ آمد عمارت نو ساخت

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳

ملی۔ اس خبر کا عنوان یہ تھا: بیٹے کو عید کے کپڑے دلانے سے محروم والد کی خودسوزی۔ یہ خبر یہاں نقل کی جاتی ہے:

” حیدر آباد۔ ۹ دسمبر (عوام نیوز) عیش و عشرت اور شادی بیاہ کے موقعوں پر لاکھوں روپیوں کا اسراف کرنے والوں کے اس شہر میں ایک ایسا خاندان بھی موجود ہے جو عید الفطر کے موقع پر اپنے اکلوتے فرزند کے لیے نئے کپڑے خرید نہ سکا اور اُس سے دل برداشتہ ہو کر اس خاندان کے ایک فرد نے خودسوزی کر لی۔ پولیس نے اس درد ناک واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ۳۵ سالہ حمید خان ساکن بہادر پورہ جن کو خانگی ملازم بتایا جاتا ہے، عیدالفطر کی رات ہی اپنے جسم پر کیروسین چھڑک کر خودسوزی کی کوشش کی تھی کیوں کہ وہ اپنے اکلوتے فرزند کو نئے کپڑے نہ دلانے کے باعث بہت افسردہ تھے۔ اُنہیں شدید جھلسی ہوئی حالت میں دواخانہ عثمانیہ میں شریک کروایا گیا تھا جہاں وہ آج جانبر نہ ہوسکے۔ “ (صفحہ ۱۲) اس طرح کے درد ناک واقعات مسلم سماج کے اندر مختلف شکلوں میں ہر روز ہوتے رہتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کے اندر اُن کو لے کر کوئی تحریک نہیں اُٹھتی۔ البتہ اگر کوئی غیر مسلم کسی مسلمان کے خلاف ایسا واقعہ کر دے تو تمام مسلمانوں میں ایک ہنگامہ کھڑا ہو جائے گا۔ یہ صورتِ حال ثابت کرتی ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان قومی مذہب پر ہیں، نہ کہ خدائی مذہب پر۔ اُن کی سوچ ذاتی عصبیتوں کے تابع ہے، نہ کہ احکام دین کے تابع۔

روزنامہ عوام کو کے۔ ایم۔ عارف الدین ایڈوکیٹ نے سات سال پہلے جاری کیا تھا۔ موصوف نے حیدر آباد میں تعلیم کے میدان میں قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔ حیدر آباد شہر میں ایک قدیم وقف تھا جو لوگوں کے بیان کے مطابق، بڑی حد تک اجاڑ ہو چکا تھا۔ عارف الدین صاحب نے اس وقف کو اپنے ہاتھ میں لیا اور ایک ٹیم بنا کر اس کو آباد کرنا شروع کیا۔ اس ٹیم میں بشیر الدین ایڈوکیٹ جیسے کئی لوگ شامل ہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اب یہ ایک تعلیمی ایمپائر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس سے ہزاروں نوجوان تعلیمی فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues

Printed page