Al-Risala · January 2003 · page

Speed thrills but kills.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

گنگا اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنی پرشور موجوں کے ذریعہ یہ اعلان کررہی تھی کہ میں ایک عاجز مخلوق ہوں، معبود کوئی دوسرا ہے، نہ کہ میں۔ میں نے غور سے دیکھا تو یہاں گنگا کا پانی ویسا صاف و شفاف نہ تھا جیسا کہ وہ ہمالیہ کی چوٹی پر ہوتا ہے۔ بلکہ وہ ایک گدلے پانی کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ چند مہینہ پہلے میں سوئزرلینڈ کو گیا تھا۔ سوئزر لینڈ جھیلوں کا ملک سمجھا جاتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ وہاں کی جھیلوں کا پانی صاف وشفاف اپنی اصلی حالت میں تھا۔ یہ ایک بڑا عجیب منظر تھا۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ سوئزر لینڈ کے لوگ اپنی جھیلوں کی صفائی کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ اس کے برعکس گنگا کا حال یہ ہے کہ ہر قسم کی گندگی اس میں بہادی جاتی ہے۔

ایک ہندو نے گفتگو کے دوران کہا کہ گنگا کے بارے میں ہندو عقیدہ یہ ہے کہ اس میں نہانے سے ہر قسم کے پاپ دھل جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ کوئی شخص جرم کرکے آئے اور گنگا میں ڈبکی لگالے تو وہ اپنے جرم سے پاک صاف ہو جائے گا۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ یہاں اشنان کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گنگا کے ساحل پر آباد شہروں اور بستیوں کی گندگی مسلسل بہہ کر گنگا کے پانی میں شامل ہوتی رہتی ہے۔ اس وجہ سے گنگا کے پانی کی کثافت (pollution) اتنا بڑھ گئی ہے کہ اب بہت سے ہندو اس میں نہانا پسند نہیں کرتے۔ کیوں کہ گنگا کا پانی اب آلودگی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، نہ کہ پاک کرنے کا ذریعہ۔

میں نے سوچا کہ پانی کا جو ذخیرہ اپنی صفائی کے لئے خود ہی دوسرے انسانوں کا محتاج ہو پھر وہ کسی انسان کی کیا مدد کرسکتا ہے۔ سوئزر لینڈ اور ہندوستان کا یہ فرق گویا ایک مشاہداتی ثبوت ہے کہ پانی ایک مجبور مخلوق ہے، وہ کوئی با اختیار ہستی نہیں۔

یکم جنوری کی شام کو گنگا پوجا کے مناظر دیکھنے کے بعد گنگا کے کنارے ہم لوگ ایک سجے ہوئے مقام پر لے جائے گئے۔ اس کو روشنیوں اور رنگین کپڑوں سے مزین کیا گیا تھا۔ یہاں کھانے کا انتظام میز کرسی پر تھا۔ کھانے کے دوران کچھ تعلیم یافتہ ہندو میرے پاس آکر بیٹھ گئے۔ ایک صاحب جو انگریزی اخبار کے کالمسٹ ہیں، انہوں نے کہا کہ میں سچائی اور روحانیت (spirituality) میں یقین

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page