Al-Risala · March 2003 · page

What is the future of my mission

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳

خلافتِ راشدہ کے بعد ضرورت تھی کہ کوئی بڑا عالم اور رہنما اٹھے جو جہاد کی پر امن تعبیر پیش کر کے مسلمانوں کو یورس کورس پر ڈال سکے۔ یعنی پر تشدد طریق کار کے بجائے پر امن طریق کار۔ مگر ہزار سال کے دوران ایسا کوئی رہنما پیدا نہ ہو سکا۔ چنانچہ قومی رُخ بھی بدلا نہ جا سکا۔ ۱۰ دسمبر کی شام کو یہاں کے المعهد العالی الاسلامی کودیکھا اور اُس کے بانی مولا نا خالد سیف اللہ رحمانی کے ساتھ شام کا کھانا کھایا۔ اس موقع پر کئی لوگ میرے ساتھ تھے— ڈاکٹر شیزان صاحب، عمر عابدین صاحب، عبدالرؤف صاحب، عبدالغفار صاحب، وغیرہ۔ یہ ادارہ ۱۴۲۰ھ میں قائم کیا گیا۔ اس میں مدارسِ دینیہ کے فارغین کو داخل کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد اُس کے تعارف نامہ میں یہ بتایا گیا ہے: مختلف علوم اسلامی میں افرادِ کار کی تیاری، زمانہ شناس داعیوں کی تربیت، علماء کو انگریزی زبان اور جدید علوم سے باخبر کرنا، تحقیق و تالیف۔ یہ ادارہ ایک پہاڑی کے اوپر قائم کیا گیا ہے۔ یہاں بالکل سکون کا ماحول ہے۔ فضائی کثافت بھی یہاں تقریباً موجود نہیں۔ تعلیم و تحقیق کے لیے یہ ادارہ اپنے جائے وقوع کے اعتبار سے بہت موزوں ہے۔ اس ادارہ کی جو چیزیں میں نے دیکھیں اُن میں سے ایک اُس کی لائبریری تھی۔ یہ لائبریری بہت جامع اور خوبصورت نظر آئی۔ اس لائبریری کی ایک قابلِ ذکر بات یہ تھی کہ اُس کی ایک الماری میں ماہنامہ الرسالہ کے تمام شمارے نمبر اسے لے کر اب تک مجلد صورت میں رکھے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ مکمل فائل مسٹرکشن جیونت راؤ پاٹل (نانڈیڑ) نے دیا ہے۔

کشن جیونت راؤ پاٹل ۱۹۷۶ میں اُردو زبان بالکل نہیں جانتے تھے۔ اُن کے ایک ساتھی محمد عثمان چاؤش نے اُنہیں الرسالہ کے کچھ مضامین پڑھ کر سنائے ۔ اُنہیں اس سے اتنی زیادہ دلچسپی ہوئی کہ انہوں نے الرسالہ کو خود پڑھنے کے لیے اُردو زبان سیکھنا شروع کر دیا۔ ایک بار انہوں نے بتایا کہ اُردو الفاظ کا مراٹھی ترجمہ یاد کرتے کرتے اُن کا منھ دُکھنے لگتا تھا۔ مگر انہوں نے اپنی کوشش جاری رکھی۔ یہاں تک کہ اب وہ الرسالہ کی اُردو زبان مکمل طور پر سمجھ لیتے ہیں۔ وہ پابندی سے ہر ماہ الرسالہ کا باقاعدہ مطالعہ کرتے ہیں۔ اُن کے پاس الرسالہ کے تمام شمارے محفوظ حالت میں موجود تھے۔ انہوں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues

Printed page