Al-Risala · March 2003 · page

IN TIMES OF STRIFE, REMEMBER IQBAL

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳

11 دسمبر کی صبح کو حبیب بھائی کے گھر سے ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا۔ اُن کے گھر سے ایئرپورٹ بہت قریب ہے۔ ساتھیوں سے رخصت ہو کر ایئرپورٹ کے اندر داخل ہوا۔ حیدر آباد سے دہلی کے لیے واپسی دوبارہ انڈین ایرلائنز کی فلائٹ سے تھی۔ جہاز ٹھیک اپنے وقت پر حیدر آباد سے روانہ ہوا۔ حیدر آباد اور دہلی کے درمیان سفر کرتے ہوئے کچھ اخبارات دیکھے۔ انڈین ایکسپریس کے بمبئی ایڈیشن (11 دسمبر، ۲۰۰۲) میں صفحہ 6 پر ایک مضمون تھا۔ مضمون نگار کا نام مسٹر عندلیب اختر چھپا ہوا تھا۔ عنوان کے الفاظ یہ تھے :

IN TIMES OF STRIFE, REMEMBER IQBAL

یعنی نزاع کے وقت اقبال کو یاد کرو۔ مضمون میں کہا گیا تھا کہ اجودھیا میں بابری مسجد اور رام جنم بھومی کی جو نزاع ہے اُس کا حل اقبال کے کلام میں موجود ہے۔ اس مقصد کے لیے مضمون میں اقبال کی ایک نظم (نیا شوالہ) کے حسب ذیل اشعار نقل کیے گئے تھے :

سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو برا نہ مانے تیرے صنم کدوں کے بُت ہو گئے پرانے اپنوں سے بیر رکھنا تو نے بتوں سے سیکھا جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے پتھر کی مورتوں میں سمجھا ہے تو خدا ہے خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے شکتی بھی، شانتی بھی بھکتوں کی گیت میں ہے دھرتی کے واسیوں کی مکتی پریت میں ہے اس مضمون سے یہ واضح نہ ہو سکا کہ اجودھیا کے نزاعی مسئلہ کا حل اقبال کے مذکورہ شعروں میں کس طرح ہے۔ مضمون نگار کے عقیدت مندہ ذہن میں تو یہ حل ضرور موجود ہو گا مگر چھپے ہوئے اشعار کے اندر یقینی طور پر اس کا حل موجود نہیں۔ مزید انوکھی بات یہ ہے کہ اقبال نے برصغیر ہند کی مذہبی تقسیم کا فارمولہ پیش کر کے خود ہی موجودہ نزاعات کی بنیاد رکھ دی۔ اس کے باوجود اُن کے عقیدت مندان اُن کے کلام میں برعکس طور پر اس مسئلہ کا حل دریافت کر رہے ہیں۔

انگریزی میگزین انڈیا ٹوڈے (۲ دسمبر ۲۰۰۲) دیکھا۔ اُس کے صفحہ ۶۶۔ ۶۷ پر برطانی جرنلسٹ سر مارک ٹلی (Mark Tully) کی تازہ کتاب پر تبصرہ شائع ہوا تھا۔ ۳۰۲ صفحہ کی یہ کتاب

‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues

Printed page