IN TIMES OF STRIFE, REMEMBER IQBAL
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
پنگوئن بکس نے چھاپی ہے۔ کتاب کا نام یہ ہے:
INDIA IN SLOW MOTION (2002)
اس کتاب میں انٹروڈکشن کے علاوہ گیارہ ابواب ہیں۔ اس کا پہلا باب رام کی نئی دریافت کے بارے میں ہے اور آخری باب کا عنوان ہے، گم شدہ جنت (Paradise Lost) ۔ کتاب کا ایک باب صوفیوں اور اُن کے عقائد کے بارے میں ہے۔ اس باب کا عنوان یہ ہے: The Sufies and a Plain Faith اس کتاب کی ترتیب کے دوران سر مارک ٹلی نے راقم الحروف کا دو بار انٹرویو لیا تھا۔ کتاب کے مذکورہ باب میں انہوں نے تفصیل کے ساتھ میرے خیالات کا ذکر کیا ہے جو کتاب کے صفحہ ۱۵۶ سے لے کر ۱۶۱ تک موجود ہے۔
سر مارک ٹلی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اُن کو یہ خیال ہوا کہ وہ اپنی کتاب میں اسلامی تصوف (Sufi Faith) پر ایک باب شامل کریں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے سب سے پہلے یہ کوشش کی کہ تبلیغی جماعت کے مرکز میں جا کر موضوع کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ مگر وہ لوگ اس سلسلہ میں انتہائی حد تک غیر معاون (unhelpful) ثابت ہوئے۔ حتیٰ کہ انہوں نے یہ بتانے سے بھی انکار کر دیا کہ دوسرا کون مسلمان اس معاملہ میں ان کے لئے مددگار ہو سکتا ہے۔ (صفحہ ۱۵۵) سر مارک ٹلی نے لکھا ہے کہ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ کوشش کیجئے تا کہ تبلیغ کا کوئی آدمی مل جائے جس سے میں تبلیغ کے بارے میں معلومات لے سکوں۔ ان کے کہنے پر میں نے کوشش کی لیکن مجھے کامیابی نہ ہوسکی۔ میں نے ان کو ٹیلی فون کیا اور اس سلسلہ میں معذوری ظاہر کی ۔ اس کی رپورٹ سر مارک ٹلی نے ان الفاظ میں لکھی ہے:
(Maulana) agreed but a few days later rang me back to confess failure. ‘These people are not living in this century’, he said. ‘They don't know what the media is.’ (p. 161)
اس کے بعد وہ میرے پاس آئے اور مجھ سے صوفی ازم پر تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس سلسلہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues