Al-Risala · March 2003 · page

IN TIMES OF STRIFE, REMEMBER IQBAL

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳

میں انہوں نے جو کچھ لکھا ہے اس کے چند جملے یہ ہیں :

Maulana Wahiduddin Khan proved far more approachable. When we rang him he willingly agreed to see us both, and there was no question of Gilly (wife) not being welcome. (P. 156)

موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین نے تقریباً مشترک طور پر یہ غلطی کی ہے کہ انہوں نے عوام کو اپنی کوششوں کا نشانہ بنایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کی نمائندگی صرف عوام کی سطح پر ہوسکی۔ جہاں تک خواص کا تعلق ہے، وہ اسلام سے تقریباً بے بہرہ ہو کر رہ گئے۔ میں اپنے ذاتی تجربہ کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے خواص (تعلیم یافتہ طبقہ) میں اسلام کا پیغام انتہائی حد تک قابل قبول بن چکا ہے بشرطیکہ اس طبقہ کے سامنے اسلام کو اُس کی قابل فہم زبان میں پیش کیا جائے۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین لسانِ قوم میں بولنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس معاملہ میں اُن کی بے خبری کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اکبر الہ آبادی جیسے ایک شاعر کو لسان العصر کا خطاب دے دیا۔ حالاں کہ اکبر الہ آبادی نہ تو عصر کو جانتے تھے اور نہ اُن کی زبان لسان العصر کا مصداق تھی۔

اس سلسلہ میں ایک سبق آموز ذاتی تجربہ یہ ہے کہ میں نے انگریزی اخبار کے لیے ایک مضمون تیار کیا۔ یہ مضمون واضح طور پر موجودہ زمانہ کے ہندو گروؤں اور سوامیوں کے خلاف تھا۔ اس مضمون کا عنوان یہ تھا : The Role of Spirituality in De-stressing the Human Mind آج کل ہندو سوامی اور ہندو گرو ملک میں اور ساری دنیا میں بہت بڑے بڑے آشرم چلا رہے ہیں۔ یہاں میڈیٹیشن کے مخصوص تکنیک کے ذریعہ لوگوں کے ذہنی تناؤ کو دور کیا جاتا ہے۔ میرا مضمون اس کے سراسر خلاف تھا۔ انگریزی اخبار کے دفتر میں جب میرا مضمون پہنچا تو وہاں کے ذمہ داروں کے درمیان اس پر بحث ہوئی۔ ایک ہندو صحافی نے کہا کہ یہ مضمون تو ہماری بنیاد کو ڈھا رہا ہے۔ دوسرے ہندو صحافیوں نے جواب دیا کہ ہمیں اس سے بحث نہیں۔ یہ مضمون سائنسی اور منطقی دلائل سے بھر پور ہے۔ اس لیے ہم اُس کو اپنے اخبار میں چھاپیں گے۔ چنانچہ یہ مضمون بعینہ دہلی کے مشہور انگریزی اخبار میں شائع ہوا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues

Printed page