Al-Risala · January 2003 · page

Speed thrills but kills.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

رکھتا ہوں ۔ میں نے ہر مذہب کا مطالعہ کیا ہے۔ اسلام کے بارے میں آپ کی کچھ کتابیں پڑھی ہیں ۔ میں نے پوچھا کہ آپ سچائی کی تعریف کس طرح کرتے ہیں اور یہ کہ اس کی کیا پہچان ہے کہ کسی کو سچائی مل گئی۔ وہ غیر مربوط انداز میں دیر تک بولتے رہے مگر کوئی واضح بات نہ بتا سکے ۔ میں نے کہا کہ آپ متعین اور محدود (specific) الفاظ میں میرے سوال کا جواب دیں۔ مگر کافی دیر تک سننے کے باوجود میں ان کی تقریر سے اپنے سوال کا واضح جواب نہ پاسکا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ سچائی ایک ذاتی تجربہ (experience) کی بات ہے ، اس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ پنجاب سے آئی ہوئی ایک خاتون پروفیسر بھی کھانے کی میز پر موجود تھیں ۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ گنگا میا میری ہر ضرورت کو پوری کر دیتی ہیں ۔ جب بھی میں ان کو پکارتی ہوں میں ان کو موجود پاتی ہوں ۔ میں نے ان سے کہا کہ اس سلسلہ میں آپ اپنا کوئی عملی تجربہ بتائیں ۔ انہوں نے کہا ، ایسے بہت تجربات ہیں۔ کافی اصرار کے بعد انہوں نے ایک تجربہ بتایا۔

انہوں نے کہا کہ رشی کیش کے اس پروگرام میں میں آنا چاہتی تھی۔ میں اس کے لئے بہت زیادہ خواہش مند تھی۔ میں نے اپنے شوہر سے اپنی اس خواہش کے بارے میں کچھ نہیں بتایا اس لئے کہ میں جانتی تھی کہ وہ انویٹیشن (دعوت نامہ) کے بغیر کہیں نہیں جاتے ۔

میرے مَن میں یہ تھا کہ گنگا میا انویٹیشن بھیج دیں تو میرا کام بن جائے ۔ اگلے دن صبح کی ڈاک سے مجھے انویٹیشن مل گیا ، اس طرح میں یہاں پہنچ گئی۔

میں نے کہا کہ اب آپ میری مثال لیجئے ۔ مجھے یہاں کے پروگرام کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ تھا اور نہ میں نے اس میں شرکت کی خواہش کی تھی ۔ مگر اپنے آپ مجھے اس کا انویٹیشن مل گیا۔ اب یہ بتائیے کہ اگر آپ کا انویٹیشن گنگا میا نے بھیجا تو میرا انویٹیشن کس نے بھجوایا۔ میرے اس سوال کا وہ کوئی جواب نہ دے سکیں ۔

ایک اور تعلیم یافتہ ہندو نے گفتگو کے دوران کہا کہ میں اس طرح کے مندروں اور مذہبی مقامات پر بہت زیادہ گیا ہوں ۔ اب میں ان لوگوں سے کہتا ہوں کہ بھگوان کے مندر بہت بن چکے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page