Speed thrills but kills.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳
اب انسان کا مندر بناؤ۔ مندر کے نام پر جھگڑے بھی بہت ہو رہے ہیں۔ انسان کے مندر میں کوئی جھگڑا نہ ہوگا۔ انسان کے مندر سے ان کی مراد یہ تھی کہ ایجوکیشن اور اسپتال جیسے سوشل کام بڑے پیمانہ پر کئے جائیں۔
اس طرح کی گفتگوؤں سے میں نے سمجھا کہ برادران وطن کی بہت بڑی تعداد ہے جو ہندوازم کے موجودہ روایتی ڈھانچہ سے غیر مطمئن ہے۔ اس کی فطرت اس کے سوا کچھ اور چاہتی ہے۔ مگر اس ’’کچھ اور‘‘ کا کوئی واضح نقشہ اس کے سامنے نہیں۔
رشی کیش کے آشرم میں ہر طرف مختلف ہندو بت نصب کیے ہوئے تھے۔ اسی کے ساتھ لاؤڈ اسپیکر پر ہروقت ہندو روایات کے مطابق، سنسکرت کے منتر یا بھجن سنائی دیتے رہتے تھے۔ یہاں ایک ضخیم انسائیکلوپیڈیا آف ہندوازم بھی تیار کی جارہی ہے۔ اس کے ایڈیٹوریل بورڈ میں ۱۲ ہندوستانی اور ۱۲ بیرونی ہندو پروفیسر شامل ہیں۔ ڈاکٹر شیشا گری راؤ اس کے ہیڈ ہیں۔ میں نے اس انسائیکلوپیڈیا کے کچھ حصوں کو دیکھا۔ مجھے یہ انسائیکلوپیڈیا بظاہر انسائیکلوپیڈیا آف ہندوازم کے بجائے انسائیکلوپیڈیا آف ہندو مائتھالوجی نظر آئی۔ مثلاً اس میں بتایا گیا ہے کہ گنگا ایک دیوتا کی جٹا سے نکلی۔ اس قسم کی افسانوی باتوں سے یہ انسائیکلوپیڈیا بھری ہوئی ہے۔ ’’انسائیکلوپیڈیا‘‘ کا لفظ علمی اور تاریخی معلومات کے لئے ہوتا ہے، نہ کہ افسانوی معلومات کے لیے۔ مگر موجودہ زمانہ میں ہر مذہب میں مختلف پہلوؤں سے اس قسم کا غیر علمی انداز عام ہورہا ہے۔ ایسا انداز عقیدت مندوں کو خوش کر سکتا ہے مگر وہ جدید ذہن کو مطمئن کرنے والا نہیں۔
یہاں کثرت سے اس قسم کے تجربات اور مشاہدات ہوئے ۔ میں نے سوچا کہ برادران وطن سیکڑوں سال سے توہماتی عقائد اور روایات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مگر مسلمان ان کی ہدایت کے لئے نہیں تڑپے ۔ ان کی خیر خواہی نے انہیں بے چین نہیں کیا۔ خود ہندوؤں میں ایسے لوگ اٹھے جنہوں نے محدود طور پر اصلاح کی کوششیں کیں۔ مثلاً کبیر نے اس سلسلہ میں بہت سی باتیں کہیں۔ ان کا ایک شعر یہ ہے : ماتھے تِلک ہاتھ ملبانا لوگن رام کھلونا جانا
‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues