Al-Risala · January 2003 · page

Speed thrills but kills.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

آریہ سماج کی تحریک بھی اسی نوعیت کی ایک ادھوری تحریک تھی۔ گرو نانک کی تحریک اپنی اصل نوعیت کے اعتبار سے غیر خداؤں کی پرستش کے بجائے ایک خدا کی پرستش کا پیغام تھا۔ اقبال نے گرو نانک کے بارے میں یہ شعر کہا تھا:

نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے مسلمانوں کے پاس محفوظ آسمانی کتاب کی صورت میں کامل سچائی موجود تھی مگر مسلمان برادران وطن کی اصلاح کے لئے کچھ نہ کر سکے۔ رشی کیش میں گفتگو کے دوران بہت سے ہندوؤں نے مجھ سے اسلام کے مطالعہ کی خواہش ظاہر کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی حقیقی اصلاحی کوشش کے لئے گہری خیر خواہی درکار ہوتی ہے۔ وہ خیر خواہی جو شکایتوں کے باوجود نہ ٹوٹے، بیٹے کے ساتھ ماں کی محبت کی طرح جو ہر حال میں قائم رہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کے اندر برادران وطن کے لئے اس قسم کی خیر خواہی موجود نہ تھی۔ مسلم سلطنت کے دور میں وہ ہندوؤں کو کمتر سمجھتے رہے اور ۱۹۴۷ کے بعد وہ ہندوؤں سے اپنے سینہ میں نفرت اور شکایت لئے ہوئے ہیں۔ اور جو لوگ اس طرح کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ کبھی اصلاح ودعوت کا کوئی گہرا کام نہیں کر سکتے۔

۱۱۹۷ سے پہلے کے دور میں مسلم صوفیوں نے ضرور کچھ مفید کام کئے مگر جہاں تک مسلم علماء کا تعلق ہے، وہ اس سلسلہ میں کوئی قابل قدر خدمت انجام نہ دے سکے۔ کچھ لوگوں نے ہندوستان کو دار الحرب بتا کر مسلمانوں کے اندر منفی نفسیات پیدا کیں۔ کچھ لوگوں نے ہندوؤں کے ’’مسلم ملچھ‘‘ کے تصور کا مقابلہ کرنے کے لئے ’’ہندو کافر‘‘ کا نظریہ پھیلایا۔ کچھ لوگوں نے بت شکنی کے نام پر ایسے کام کئے جو اپنے نتیجہ کے اعتبار سے صرف دل شکنی کے ہم معنی تھے۔

حال میں پاکستان نے اس فرقہ وارانہ تناؤ کو آخری حد تک پہنچا دیا ہے۔ اس نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے ہند ونفرت کا عالمی کارخانہ کھول دیا۔ اُس نے ہندوستان کے خلاف اپنی قومی جنگ کو اسلامی جہاد کا نام دیا۔ اسی معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ اس نے ہندوستان سے امکانی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لئے کچھ میزائل بنائے تو ان کے نام غوری میزائل، غزنوی میزائل اور ابدالی میزائل رکھ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page