Al-Risala · April 2003 · page 22

کامیاب زندگی کا اصول

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۲۲

ایک مولانا وحید الدین خاں صاحب ہیں۔ خان صاحب کے خیالات سے مسلمان اچھی طرح واقف ہیں۔ اُن کے نزدیک ہر مسئلہ مسلمانوں کا اپنا ہی پیدا کردہ ہے، سنگھ پریوار کے لوگ تو معصوم عن الخطاء ہیں، یہ مسلمان ہی ہیں جو ملک میں انتشار اور بد امنی پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ، مسلمان ہندوؤں کو بالفاظ دیگر سنگھ پریوار کے افراد کو اپنا بڑا بھائی سمجھ کر بابری مسجد اور دیگر متنازعہ امور کے تعلق سے اپنی ضد وہٹ دھر می چھوڑ دیں۔ ایسا کر کے ہی مسلمان اس ملک میں "عزت" کی زندگی گزار سکتے ہیں‘۔ (صفحه ۶-۷) برائے کرم اس معاملہ کی وضاحت فرمائیں۔ (ڈاکٹر ایس اے صدیقی، نئی دہلی) جواب ۱۔ کوئی مسئلہ آدمی کو پیش آتا ہے، وہ آدمی کا خود اپنا پیدا کیا ہوا ہوتا ہے، یہ راقم الحروف کی بات نہیں بلکہ خود اللہ تعالیٰ کی بات ہے۔ قرآن میں اس سلسلہ کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: وما اصابکم من مصيبة فبما كسبت ايديکم (الشوریٰ ۳۰)۔ اس آیت کا ترجمہ مولانا اشرف علی تھانوی نے اس طرح کیا ہے: اور تم کو جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں سے پہنچتی ہے۔

مفسر القرطبی نے اس آیت کی تشریح میں ایک حدیث نقل کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: یا علی ما أصابكم من مرض او عقوبة او بلاء فى الدنيا فبما كسبت ايديكم (الجامع لأحكام القرآن، الجزء ۱۶، صفحه ۳۰)۔ یعنی اے علی، جو مصیبت بھی تم پر آتی ہے، خواہ وہ بیماری ہو یا عقوبت ہو یا کوئی دنیوی مصیبت ہو تو وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے۔

قرآن وحدیث کی اس تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی اہل ایمان کے ساتھ کوئی مسئلہ پیش آئے تو اس کے بعد اُن کے اندر احتسابِ خویش کا جذبہ اُبھرنا چاہئے، نہ کہ احتسابِ غیر کا۔ خدائی شریعت کے مطابق ، یہی مسئلہ کا حل ہے۔

۲۔ مذکورہ عبارت میں راقم الحروف کے نقطہ نظر کو بگاڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ ہم نے اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues

Printed page