Al-Risala · April 2003 · page 28

کامیاب زندگی کا اصول

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۲۸

جماعت کے افراد اگر اپنی غلطی کو کھلے طور پر مان لیں تو اُن کے کلام میں تضاد نہ رہے گا۔ لیکن اُن کے اندر غلطی کے اعتراف کی جرات نہیں۔ اُن کی یہی کمزوری ہے جس نے انہیں مذکورہ قسم کی تضاد فکری میں مبتلا کر دیا ہے۔ یعنی ایک چیز کو ماننا اور اُسی کے ساتھ اُس کی تردید کرنا۔ زندگی نو کے مذکورہ جواب میں مزید یہ کہا گیا ہے کہ: ریاست کے قیام کے بغیر احکام الہیٰ کے نفاذ کی تکمیل نہیں ہوسکتی (صفحہ ۷۲)۔ یہ ایک مغالطہ آمیز بات ہے۔ اگر یہ اصول درست ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی پیغمبر کے زمانہ میں دین کا تکمیلی نفاذ نہیں ہوا جیسا کہ قرآن سے ثابت ہے۔ حتیٰ کہ خود پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی نہیں۔ اس کی ایک دلیل رہا کے بارے میں خلیفہ ثانی عمر فاروق کا وہ مشہور قول ہے جو ابن ماجہ (کتاب التجارات) اور احمد بن حنبل نے نقل کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:

عن سعيد بن المسيب قال : قال عمر رضى الله عنه ان آخر ما نزل من القرآن آية الربا و ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قبض ولم يفسرها فدعوا الربا والريبة۔ (مسند احمد ۱/ ۳۶)

ترجمہ: سعید بن مسیّب روایت کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قرآن میں سب سے آخری آیت جو اُتری وہ ربا کے بارے میں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (جلد ہی) وفات ہوگئی اور آپ نے اُس کی تفسیر نہیں کی۔ پس تم لوگ رہا کو چھوڑ دو اور جس میں ربا کا شبہہ ہو اُس کو بھی چھوڑ دو۔

اصل یہ ہے کہ دین کی تکمیل کا تحقق ہمیشہ حالات کے اعتبار سے ہوتا ہے، نہ کہ شرعی احکام کی فہرست کے اعتبار سے۔ قرآن میں یہ اصول بتایا گیا ہے کہ اللہ کسی کو صرف اُس کے وسع کے بقدر مکلف کرتا ہے (البقرہ (۲۸۶) ایسی حالت میں کوئی فرد یا گروہ اگر حالات کے اعتبار سے اپنے وسع (capacity) کے بقدر عمل کرتا ہے تو اُس کا دین اس کے لئے بلاشبہ مکمل ہو گیا۔ اللہ کے یہاں وہ کامل دین پر عمل کرنے والا قرار پائے گا، نہ کہ ناقص یا نا مکمل دین پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues

Printed page