کامیاب زندگی کا اصول
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۲۹
سوال
قرآن میں کئی آیتیں ایسی ہیں جو مسلمانوں سے کہتی ہیں کہ کافروں کو قتل کرو۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان جہادی ہو گئے ہیں اور غیر مسلموں کو قتل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ مثلاً قرآن (البقرہ ۱۹۱) میں یہ آیت ہے: واقتلوهم حيث ثقفتموہم واخرجوهم من حيث اخرجوكم والفتنۃ أشد من القتل ولاتقٰتلوہم عندالمسجد الحرام حتى يقتلوكم فان قتلوكم فاقتلوہم كذلك جزاء الكفرين (اور قتل کرو اُن کو جس جگہ پاؤ اور نکال دو اُن کو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے۔ اور فتنہ زیادہ سخت ہے قتل سے۔ اور اُن سے مسجد حرام کے پاس نہ لڑو جب تک کہ وہ تم سے اس میں جنگ نہ چھیڑیں۔ پس اگر وہ تم سے جنگ چھیڑیں تو اُن کو قتل کرو۔ یہی سزا ہے کافروں کی)۔ قرآن میں جب تک اس طرح کی آیتیں موجود ہیں، مسلمانوں کا غیر مسلموں کے ساتھ شانتی سے رہنا ممکن نہیں (اشوک سنگھل، نئی دہلی)
جواب
یہ آیت خود ہی یہ بتا رہی ہے کہ جنگ کا حکم کافر کے خلاف نہیں ہے بلکہ مقاتل (حملہ آور) کے خلاف ہے۔ جیسا کہ خود اسی آیت میں کہا گیا ہے : فان قتلوکم فاققتلوهم (پس اگر وہ جنگ چھیڑ دیں تو تم بھی دفاع میں اُن سے جنگ کرو اسی طرح اسی سورہ میں اس سے پہلے یہ آیت ہے : وقاتلوا فى سبيل الله الذين يقاتلونكم ولا تعتدوا (البقرہ ۱۹۰) یعنی جو لوگ تم سے جنگ کرتے ہیں اُن سے تم دفاع میں جنگ کرو، اللہ کے حکم کی پابندی کرتے ہوئے، اور تم خود جارحیت نہ کرو۔
اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ہے کہ قرآن میں جن چند مقامات پر کافر کا لفظ آیا ہے، اُس سے مراد پیغمبر اسلام کے معاصر منکرین ہیں۔ قرآنی اصطلاح کے مطابق ، کافر کوئی نسل یا قوم نہیں اور نہ یہ لفظ ابدی طور پر ہر غیر مسلم گروہ کے لیے بولا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اہلِ اسلام نے بعد کے زمانہ کے لوگوں کے لیے جو الفاظ استعمال کیے وہ کافر یا کفار نہ تھے بلکہ یہ وہی الفاظ تھے جو کہ قومیں خود اپنے لیے استعمال
‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues