Al-Risala · April 2003 · page 30

کامیاب زندگی کا اصول

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۳۰

کر رہی تھیں۔ مثلاً ہنود، یہود، نصاریٰ، مجوس، بودھ (بوذا) وغیرہ۔ اسلامی اصول کے مطابق کسی قوم کو اسی لفظ سے پکارا جائے گا جو لفظ اُس نے خود اپنے لیے اختیار کیا ہو۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبروں نے جب اپنے زمانہ کے غیر مومن لوگوں کو پکارا تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اے کا فرو، بلکہ یہ کہا کہ اے میری قوم کے لوگو۔ چنانچہ قرآن میں پیغمبر کی زبان سے پچاس بار یہ الفاظ آئے ہیں: یا قومی، یا قوم (اے میری قوم)۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک پیغمبر کو اُس کے مخالفین نے پتھر مارا اور ان کے خون بہنے لگا، اُس وقت پیغمبر کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: رب اهد قومى فانهم لا يعلمون۔ (اے میرے رب، میری قوم کو ہدایت دے کیوں کہ وہ لوگ نہیں جانتے۔ اسی طرح قرآن میں پیغمبروں کے ہم زمانہ غیر مومنین کو اُن کی قوم کا نام دیا گیا ہے۔ مثلاً: قوم لوط، قوم صالح، قوم ہود، قوم نوح، وغیرہ۔

اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کا نظریہ دو قومی نظریہ نہ تھا، بلکہ وہ ایک قومی نظریہ تھا۔ یعنی جو قومیت پیغمبر کی تھی وہی قومیت پیغمبر کے مخاطبین کی تھی۔ پیغمبر اور اُس کے مخاطبین کے درمیان جو فرق تھا، وہ قومیت کا فرق نہ تھا بلکہ عقیدہ اور مذہب کا فرق تھا۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: لكم دينكم ولی دین (۶:۱۰۹)

قرآن میں الانسان (واحد) کا لفظ ۶۵ بار آیا ہے اور الناس (جمع) ۲۴۰ بار آیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں کافر کا لفظ صرف پانچ بار قرآن میں آیا ہے اور اُس کی جمع الکفار، الکافرون اور الکافرین کے الفاظ ۵۰ بار آئے ہیں ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں قرآن کا تصور کیا ہے۔ قرآن کی نظر میں یہ زمین دار الانسان ہے، نہ کہ دار الکفار۔

سوال

تمام مساجد میں اذان کے لئے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ہوتا ہے۔ اذان کی آواز بعض وقت نہایت گراں محسوس ہوتی ہے۔ جب یہ گرانی افراد ملت کو ہے تو دیگر بندگان خدا کو کس قدر ہوگی۔ اس معاملہ کی وضاحت فرمائیں ۔ (حکیم انور علی صدیقی، میرٹھ)

‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues

Printed page