Al-Risala · April 2003 · page 31

کامیاب زندگی کا اصول

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۳۱

جواب

عرض یہ کہ لاؤڈاسپیکر کا تعلق فتویٰ سے نہیں ہے بلکہ ضرورت سے ہے۔ بوقت ضرورت حسب حالات لاؤڈاسپیکر کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مگر جہاں لاؤڈاسپیکر کی ضرورت نہ ہو، نیز اُس سے کوئی غیرضروری مسئلہ پیدا ہوتا ہو تو لاؤڈاسپیکر کے استعمال سے احتراز کرنا چاہئے۔ یورپ، امریکہ میں بسنے والے مسلمان، ٹھیک اسی اصول پر عمل کر رہے ہیں۔

سوال

الرساله دسمبر ۲۰۰۲ء کے صفحہ ۴۳ پر لکھے گئے خط سے متاثر ہو کر اپنے تاثرات آپ تک پہنچانے کی اس قدر ترغیب ہوئی کہ لکھے بغیر نہ رہ سکا۔

مذکورہ خط آپ نے عبدالسلام اکبانی کے نام لکھا ہے۔ اس میں آپ نے قرآن وحدیث کی روشنی میں مسلم لیڈران کرام اور اکابرین زمانہ کے بارے میں لکھا ہے۔ میں اس سے حرف بہ حرف متفق ہوں۔ کیوں کہ ہم بدقسمت کشمیریوں پر ایسے ہی خود ساختہ لیڈروں کی ایک فوج سوار ہوگئی ہے جنہوں نے کروڑوں کی دولت بنائی ہے اور یہ لوگ ناقابل یقین عیش وعشرت کی زندگی بسر کر کے عام غریب اور بے سہارا، نادار اور سادہ لوح عوام کا استحصال کر کے اُنہیں کٹواتے مرواتے ہوئے اپنے لیے زیادہ سے زیادہ سامانِ عیش بناتے ہیں۔ یہ لوگ ’’ من ترا حاجی بگویَم تو مرا حاجی بگُو‘‘ کے مصداق ایک دوسرے کو بڑے بڑے آداب والقاب دے دے کر عام لوگوں کا استحصال کر کے یہاں کشمیر میں قتل وغارت گری کا دور روا رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بتائیں کہ ہم کشمیریوں کی قسمت کس طرح بدل سکتی ہے۔ اس وادی گل پوش میں کوئی ایسا شخص پیدا ہو جو واقعی قوم کی رہنمائی کرے اور جس کا اندروباہر ایک ہو اور ایک صادق القول مسلمان ہوتے ہوئے اس پریشان حال قوم کی صحیح رہنمائی کر سکے ۔ (ایک کشمیری مسلمان، اننت ناگ) جواب یہ کہنا صحیح نہیں کہ کشمیریوں پر استحصالی لیڈروں کی فوج سوار ہوگئی ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ کشمیریوں نے خود سے ایسے لیڈروں کو اپنے اوپر سوار کر لیا ہے۔ کشمیر میں جہاد کے نام پر متشددانہ تحریک

‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues

Printed page