کامیاب زندگی کا اصول
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۳۲
خود کشمیری عوام کی مرضی سے اکتوبر 1989ء میں شروع ہوئی۔ اُس سے صرف ایک مہینہ پہلے میں کشمیر گیا تھا۔ اُس وقت کشمیریوں کے درمیان مسلح جہاد کا چرچا شروع ہو چکا تھا۔ سری نگر کے ٹیگور ہال میں میری تقریر ہوئی۔ میں نے کہا کہ جہاد کے نام پر جو مسلح تحریک آپ چلانے جا رہے ہیں وہ صرف کشمیر کے مسائل میں اضافہ کرے گی۔ میں نے اپنی تقریر میں رسول اللہ ﷺ کے ایک واقعہ کی مثال دی۔ آپ کے زمانہ میں مدینہ کی مسجد نبوی میں ایک دیہاتی شخص مسجد کے اندر آیا اور اس کو گندہ کر دیا۔ لوگ اُس کو مارنا چاہتے تھے مگر آپ نے منع کر دیا۔ آپ نے کہا کہ اُس مقام پر پانی بہادو، وہ صاف ہو جائے گا۔ اس سلوک کے بعد وہ شخص اور اُس کا پورا قبیلہ اسلام میں داخل ہو گیا۔ میں نے کہا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مقصد پانی بہا کر حاصل کیا تھا اُس کو آپ خون بہا کر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ خدا کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ اللہ کی توفیق سے میں نے جو کچھ پیشگی طور پر کہا تھا وہ حرف بہ حرف پورا ہوا۔ اگر چہ اس وقت کشمیریوں نے میری بات پر دھیان نہیں دیا تھا۔ اب کشمیریوں کے لیے صرف ایک ہی صورت ہے۔ وہ تو بہ کریں اور اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے پر تشدد جدو جہد کو چھوڑ کر پر امن تعمیر کا کام کریں۔ سوال میں آپ کے الرسالہ کا برابر مطالعہ کرتا ہوں۔ آپ کی بات ہمیشہ دلائل پر مبنی ہوتی ہے۔ مجھے آپ سے ایک سوال کا جواب چاہئے ۔ مجھے بچے رکھنے میں زبردست دشواری محسوس ہوتی ہے۔ میں نے اپنے دل میں ٹھان لیا ہے کہ میں شادی کے بعد پوری زندگی بے اولاد رہوں گا۔ اس معاملہ میں آپ اپنے مشورہ سے آگاہ فرمائیں۔ (ڈاکٹر عمر علی، مہاراشٹر)
جواب
اولاد مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اولاد سے غیر معتدل محبت کی بنا پر اپنے خرچ کو غیر ضروری طور پر بڑھا لیا جائے۔ خرچ کو اپنی آمدنی کے دائرہ میں رکھا جائے تو کبھی اس قسم کا مسئلہ پیدا نہ ہوگا۔ اصل ضرورت خرچ پر کنٹرول کرنے کی ہے، نہ کہ اولاد پر کنٹرول کرنے کی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues