Al-Risala · April 2003 · page 33

ایک اخباری انٹرویو

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۳۳

ایک اخباری انٹرویو

س۔ ابھی آپ کا حیدر آباد کس سلسلہ میں آنا ہوا، اس کے بارے میں مختصر طور پر کچھ بتائیں۔ ج۔ آندھرا پردیش کی ایک تنظیم و گیان بھارتی مہارشی بھاردواج سوسائٹی کی طرف سے حیدر آباد میں تھنکرس میٹ کے نام سے ایک سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع انڈینائزیشن آف ایجوکیشن تھا۔ اس کو مرکزی وزیر مرلی منوہر جوشی اور آرایس ایس کے چیف، کے ایس سدرشن نے خطاب کیا۔ اس سیمینار میں مجھے بھی خطاب کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ میں نے ۷ دسمبر ۲۰۰۲ کو اس میں ایک تقریر کی۔ چونکہ وہاں ماحول انگریزی کا تھا اس لیے میں نے بھی انگریزی میں خطاب کیا۔ س۔ کانفرنس کا موضوع بہت اہم اور نازک تھا، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔ ج۔ میں نے اپنی تقریر میں چند باتیں کہیں! چونکہ مجھے انہی لوگوں کے ساتھ ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا اس لیے جلسہ گاہ کے علاوہ بھی اُن لوگوں سے کافی باتیں کرنے کا موقع ملا۔ میری تقرير اور گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ ہمارا اصل مسئلہ صرف ایجوکیشن کو انڈینائزیشن کرنا نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہندوستانی سماج کے اندر مثبت شعور اور تعمیری مزاج پیدا کیا جائے۔ مثلاً ہمارا سماج بہت زیادہ رائٹ کانشس ہو گیا ہے اس کو ڈیوٹی کانشس بنانا۔ اسی طرح ہمارے سماج میں ذاتی مفاد کا جذبہ بہت بڑھ گیا ہے اور قومی مفاد پس پشت چلا گیا ہے۔ ہمارے سماج میں گروہی اور علاقائی پارٹیاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ حتیٰ کہ اب کوئی پارٹی نیشنل پارٹی کی حیثیت سے نظر نہیں آتی۔ اسی طرح مادی سوچ عام ہوگئی ہے اور اخلاقی اور روحانی سوچ کا فقدان نظر آتا ہے۔ ہمارے سماج کی یہی وہ بنیادی کمزوریاں ہیں۔ اُن کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔ بقیہ تمام چیزیں ضمنی اور اضافی ہیں۔

س۔ الرسالہ تحریک کی ابتدا ء تو مخالفت کی گئی تھی مگر اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک و بیرون ملک میں جو پڑھا لکھا طبقہ ہے وہ اس تحریک سے متفق بھی ہے اور متاثر بھی۔ اس پس منظر میں یہ بتائیں کہ اس تحریک کے بنیادی مقاصد اور کامیابی کے اسباب کیا ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues

Printed page