Al-Risala · April 2003 · page 34

ایک اخباری انٹرویو

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۳۴

ج۔ الرساله مشن کا اصل مقصد اسلام کی اصولی تعلیمات کا احیاء ہے۔ یہ تعلیمات عین فطرت پر مبنی ہیں۔ اس دنیا میں فطرت کا نظام ہی قابل عمل نظام ہے۔ اگر کچھ لوگ غلط فہمی کی بنا پر اس کی مخالفت کریں تب بھی فطرت کا زور انہیں اس کی تائید پر مجبور کر دے گا۔ یہی معاملہ الرسالہ مشن کے ساتھ ہوا ہے۔ کچھ لوگوں نے ابتداء میں الرسالہ مشن کی مخالفت کی مگر یہ مخالفت بلاشبہ غلط فہمی پر مبنی تھی۔ چنانچہ اب ان مخالفتوں کا تقریبا خاتمہ ہو چکا ہے۔ عام طور پر لوگ الرسالہ کا نام لے کر یا نام لئے بغیر اس کو اختیار کر چکے ہیں۔ جلد ہی انشاء اللہ وہ وقت بھی آنے والا ہے جب کہ لوگ پوری طرح الرسالہ کے حوالے سے اُس کو اختیار کر لیں گے۔

س۔ ملک میں پچھلے دنوں چند خطرناک فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے فسادات ملک وقوم کی ترقی کے لیے بہت بڑی رُکاوٹ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں روکنے کے لئے بھارت کے سیکولر باشندے متفکر ہیں۔ کیا آپ کے پاس اس کے سد باب کے لئے کوئی فارمولا ہے۔ ج۔ اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کے سدّ باب کے لئے فطرت کا زیادہ طاقتور فارمولا بالفعل موجود ہے۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم فطرت کے اس فارمولے کو عملاً ظہور میں آنے کا موقع دیں۔ ہم کوئی ایسا غیر موافق کام نہ کریں جس سے فطرت کے عمل میںرُکاوٹ پڑ جائے۔ فطرت کا فارمولا یہ ہے کہ جب بھی اس طرح کا کوئی بھیانک واقعہ ہو تو اُس کے بعد فوراً ایسا ہوتا ہے کہ انسانی ضمیر جاگ اُٹھتا ہے۔ اس طرح وہ اس واقعہ کے ذمہ داروں کے اندر شرمندگی کا احساس پیدا کرتا ہے اور دوسری طرف بقیہ لوگوں کے اندر مذمت کا احساس۔ ایسی حالت میں ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ ہم جوابی رد عمل کا ہنگامہ نہ کھڑا کریں بلکہ خاموش رہ کر فطرت کو اپنا کام کرنے کا موقع دیں۔ یہی وہ حکمت ہے جس کو حضرت عمر فاروق نے ان الفاظ میں بیان کیا: اميتوا الباطل بالصمت عنه۔

س۔ عام طور پر لوگوں کا خیال ہے کہ آپ نے بابری مسجد کو ہندوؤں کے حوالہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ مگر آپ کا کہنا ہے کہ یہ بات غلط ہے۔ بتائیں کہ آپ کا موقف کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues

Printed page