ایک اخباری انٹرویو
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۳۵
ج۔ بابری مسجد کے معاملہ میں میرا جو موقف ہے اس کو میں نے ١٩٩٣ ہی میں ماہنامہ الرسالہ میں شائع کر دیا تھا۔ میرا موقف ان شائع شدہ الفاظ کے مطابق ، یہ تھا کہ مسلمان بابری مسجد کے سوال پر جلسہ جلوس کی مہم ختم کر دیں اور اس مسئلہ کو ملک کے ضمیر کے حوالہ کر دیں۔ میرے علم و تجربہ کے مطابق ، یہی مسلک قرآن وسنت کے مطابق ہے اور عقل انسانی کے مطابق بھی ۔ س۔ پچھلے دنوں آپ کو ترک اسلحہ اور ان سے متعلق دُنیا کے سب سے بڑے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ کیا آپ اس کی تفصیل بتا سکتے ہیں۔
ج۔ یہاں اس کی تفصیل بتانا مشکل ہے۔ البتہ سوئزرلینڈ کے سفرنامہ کے تحت میں نے اس کو تفصیل کے ساتھ لکھا ہے جو انشاء اللہ جلد ہی الرسالہ میں شائع ہوگا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمہ کی تحریک ١٩٥٨ سے چل رہی تھی جس کو البرٹ آئنسٹائن اور برٹرینڈ رسل نے شروع کیا تھا۔ مگر اس کے باوجود عملی نکات اب تک واضح نہیں ہو سکے تھے۔ میں نے اللہ کی توفیق سے اُن کو واضح کیا۔ اس طرح اس مشکل معاملہ کا دروازہ کھلا۔ لوگوں نے میرے اس کنٹری بیوشن کو بہت زیادہ پسند کیا اور اس کی وجہ سے مجھے انٹرنیشنل پیس ایوارڈ دیا گیا۔ س۔ ایوارڈ کی رقم کے بارے میں عام طور پر کافی تجسس پایا جاتا ہے۔ کیا آپ بتائیں گے کہ اس کا مصرف کیا ہے۔
ج۔ اس قسم کے بڑے بڑے ایوارڈ کے بارے میں انٹرنیشنل رواج یہ ہے کہ اُن کی رقم کو اُسی مقصد میں خرچ کیا جاتا ہے جس کے نام پر وہ ایوارڈ دیا گیا ہے۔ مجھ کو جو ایوارڈ ملا ہے وہ پیس کے نام پر ملا ہے۔ میں انشاء اللہ اُس کو پیس (امن) کے فروغ پر استعمال کروں گا۔
س۔ ملک میں موجود شدت پسند تنظیموں کی ایک طویل فہرست ہے۔ جیسے آر ایس ایس ، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، شیو سینا اور سیمی، وغیرہ۔ کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ ان کی وجہ سے ملکی مفادات کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے اور مستقبل میں حالات اور سنگین ہو سکتے ہیں۔ ج۔ انتہا پسند یا شدت پسند تنظیموں سے یقیناً ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ مگر میں ان نقصانات کو نا قابل
‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues