ایک اخباری انٹرویو
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۳۶
تلافی نہیں سمجھتا۔ کوئی تنظیم خواہ وہ کتنی ہی طاقتور ہو وہ فطرت کے اس قانون سے باہر نہیں جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ولو لا دفع الله الناس بعضهم بعض لفسدت الارض ۔ میرا یقین ہے اور ۱۹۴۷ سے لے کر اب تک کی تاریخ اس کی گواہ ہے کہ ہر شدت پسند لہر ایک حد تک ہی چلی۔ ایک حد کے بعد اس کو فطرت کے قانون دفع نے روک دیا ۔ یہ قانون ابدی ہے اور وہ ہمیشہ جاری رہے گا۔
س۔ مسلمانوں سے بار بار یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ قرآن سے بعض آیتوں کو نکال دیا جائے۔ اس کا مسلمانوں کی طرف سے کیا معقول جواب ہونا چاہیے۔
ج۔ ماہنامہ الرسالہ میں اس کا واضح جواب دیا جا چکا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس معاملہ میں یہ لوگ اس عربی مقولہ کا مصداق ہیں کہ: الناس اعداء ما جهلوا (لوگ اس چیز کے دشمن بن جاتے ہیں جس سے وہ بے خبر ہوں) جو لوگ قرآن کی کچھ آیتوں کے بارہ میں یہ بات کہہ رہے ہیں وہ ان آیتوں کے حقیقی مفہوم سے بے خبر ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان آیتوں کی صحیح تشریح کر کے لوگوں کی بے خبری کو توڑا جائے۔ اس کے بعد اُن کی مخالفت اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔ مثلاً ان لوگوں کا کہنا ہے کہ قرآن کی تعلیمات کے مطابق مسلمان ہم کو کافر سمجھتے ہیں۔ ایسی حالت میں دونوں فرقوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کیسے قائم ہو سکتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن میں کافر کا لفظ پیغمبر کے ہم عصر منکرین رسالت کے بارے میں آیا۔ جہاں تک برادران وطن کا تعلق ہے، اُن کو مسلمانوں نے ہی ہندو نام دیا تھا جس کو برادران وطن نے پسند کرتے ہوئے اختیار کر لیا۔ اب اسلامی نقطہ نظر سے برادران وطن ہمارے نزدیک بھی اسی طرح ہندو ہیں جس طرح وہ خود اپنے آپ کو ہندو کہتے ہیں۔
س۔ جلد ہی دینی مدارس کے تعلیمی سال کا آغاز ہونے والا ہے، اُن کے لیے کوئی پیغام۔ ج۔ دینی مدارس کے بارے میں ماہنامہ الرسالہ میں ایک پورا نمبر شائع ہو چکا ہے۔ یہ طویل مضمون میری تازہ کتاب دین و شریعت میں شامل ہے۔ میرے نزدیک مدرسہ یا تعلیمی ادارہ کے دو
‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues