ایک اخباری انٹرویو
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۳۷
مقاصد ہیں۔ ایک مسلم نسلوں کو مسلسل دینی شعور فراہم کرتے رہنا۔ یہ کام ہمارے دینی مدارس الحمدللہ بخوبی طور پر انجام دے رہے ہیں۔ مدارس کا دوسرا کام داعیانِ دین کی تیاری ہے تا کہ وہ غیر مسلموں میں ہر زمانہ کے مطابق، دین کا پیغام پہنچاتے رہیں۔ اس دوسرے اعتبار سے ہمارے موجودہ مدارس میں کمی ہے اور ضرورت ہے کہ اس کی تلافی کی جائے۔
س۔ جیسا کہ آپ واقف ہیں، حیدر آباد کے مسلمان مذہبی، تعلیمی اور معاشی، ہر میدان میں ترقی کر رہے ہیں۔ آپ کی نظر میں اس کے کیا اسباب ہو سکتے ہیں۔
ج۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ نہ صرف حیدر آباد بلکہ پورے ہندوستان کے مسلمانوں نے پچھلے پچاس سال میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ ملک کے تمام دینی ادارے ۱۹۴۷ء کے مقابلہ میں آج غیر معمولی ترقی کر چکے ہیں۔ حالاں کہ اس دوران ہمارے لکھنے اور بولنے والے لوگ شکایت اور احتجاج میں مشغول رہے۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ مسلمانوں نے ٹھیک اسی مدت میں نمایاں ترقی حاصل کر لی۔ اس کا سبب زمانی تبدیلیاں ہیں۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے ہندوستان میں جو اقتصادی نظام رائج تھا وہ زیادہ تر مبنی بر زمین نظام تھا۔ قدیم زراعتی نظام میں تمام وسائل زمین سے وابستہ ہوتے تھے اور زمین حکمرانوں یا کچھ جاگیر داروں اور زمینداروں کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ عوام صرف محنت و مزدوری کے ذریعہ اپنا رزق پا سکتے تھے۔ مگر ۱۹۴۷ء کے بعد ہندوستان میں تیزی سے وہ دور آ گیا جو صنعتی انقلاب کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے۔ اس جدید نظام میں ہزاروں کی تعداد میں نئے زیادہ طاقتور معاشی وسیلے پیدا ہو گئے۔ اس طرح یہ ہوا کہ اعلیٰ اقتصادی وسائل ہر انسان کی دسترس میں آ گئے ۔ یہ تبدیلی اتنی ہمہ گیر تھی کہ کوئی بڑے سے بڑا مخالف بھی اس کے سیلاب کو روک نہیں سکتا تھا۔ یہی زمانی انقلاب ہے جس کا مفید نتیجہ آپ حیدر آباد میں اور پورے ملک میں واضح طور پر دیکھ رہے ہیں۔
س۔ چوں کہ الرسالہ تحریک ایک دعوتی تحریک ہے تو کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اس قلمی مشن سے عملی طور پر کیا فائدہ ہوا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues