ایک اخباری انٹرویو
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۳۹
خبر نامہ اسسلامی مرکز ۱۷۵
اسلامی مرکز (نئی دہلی) میں ایک ریگولر کلاس ہوتی ہے۔ یہ جنوری ۲۰۰۱ سے برابر جاری ہے۔ یہ ہر ہفتہ سنیچر اور اتوار کو ہوتی ہے۔ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوتے ہیں۔ اس میں لکچر اور گفتگو کا موضوع زیادہ تر امن اور روحانیت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کے ذہنی مسائل میں اُن کی کاؤنسلنگ (counselling) بھی کی جاتی ہے۔ صدر اسلامی مرکز اور دوسرے لوگ اس میں شریک ہوتے ہیں۔
مودی انسٹی ٹیوٹ (نئی دہلی) کے تحت اجودھیا پر ییر میٹ (Ayodhya Prayer Meet) کا پروگرام ۱۸-۲۰ ستمبر ۲۰۰۲ کو ہوا۔ اس سلسلہ میں دہلی کے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک ٹیم اجودھیا گئی۔ اس میں صدر اسلامی مرکز کو بھی شامل کیا گیا۔ اجودھیا جا کر انہوں نے وہاں کے پروگرام میں شرکت کی اور مسئلہ پر اظہار خیال کیا۔
پیس انٹرنیشنل کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے سوئزر لینڈ کا سفر کیا۔ یہ سفر اکتوبر ۲۰۰۲ کے دوسرے ہفتہ میں پیش آیا۔ وہاں دوسری کارروائیوں کے علاوہ اُن کو انٹرنیشنل پیس ایوارڈ دیا گیا۔ اس کی تفصیل انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت الرسالہ میں شائع کردی جائے گی۔ جین ٹی وی (نئی دہلی) میں ۲۰ اکتوبر ۲۰۰۲ کو پینل ڈسکشن ہوا۔ اُس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ اسلام کے مطابق، غیر مسلم لوگوں کو صرف انسان کہا جاسکتا ہے، نہ کہ کافر۔ ہندوستان میں جو ہندو ہیں، اسلام کے مطابق، ہم بھی اُن کو ہندو کہیں گے، ہم اُن کو کافر نہیں کہہ سکتے۔ تہران ریڈیو نے ۲۵ اکتوبر ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویوریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر فلسطین کے مسئلہ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ فلسطین کی تحریک اپنے نشانہ کے اعتبار سے درست ہے مگر طریق کار کے اعتبار سے فلسطینی لیڈروں کو اپنی تحریک کا ری اس منٹ (reassessment) کرنا چاہئے۔ پچھلے پچاس سال کے دوران یہ تحریک پر تشدد طریق کار کے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues