Al-Risala · April 2003 · page 40

ایک اخباری انٹرویو

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۴۰

اصول پر چلائی گئی مگر وہ سراسر بے نتیجہ رہی۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ اس تحریک کو پر امن طریقہ کار کے اصول پر چلایا جائے۔ فلسطین کی تباہیوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا درست ہوگا کہ فلسطین میں پر امن طریقہ کار اب فلسطینیوں کے لیے صرف ایک انتخاب (choice) نہیں رہا ہے بلکہ وہ ان کے لئے لازمی ضرورت کے درجہ میں پہنچ چکا ہے۔

۶ جین ٹی وی (نئی دہلی) نے ۲۹ اکتوبر ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ٹیلی کاسٹ کیا۔ یہ انٹرویو اینٹی کنورژن قانون کے بارہ میں تھا۔ اس سلسلہ میں بتایا گیا کہ کنورژن ہندوستانی دستور کے مطابق، ہر شہری کا جائز حق ہے۔ ایسی حالت میں کنورژن کے خلاف قانون بنانا دستور کی نفی ہے۔ جب تک موجودہ دستور باقی ہے، اینٹی کنورژن قانون جائز طور پر نہیں بنایا جا سکتا۔ ۷ دور درشن (نئی دہلی) نے ۲۹ اکتوبر ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو کا تعلق سپریم کورٹ کے اُس فیصلہ سے تھا جو غیر امدادی تعلیمی ادارہ کے بارہ میں آیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ اُصولی طور پر درست ہے اور عالمی نظام کے مطابق ہے۔ ۸ ۱۰۔ ۱۲ نومبر ۲۰۰۲ کو ہمالین انسٹی ٹیوٹ ہاسپٹل اور سادھنا مندر ٹرسٹ کی طرف سے رشی کیش میں ایک انٹر نیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس میں مغربی ملکوں کے لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس کا موضوع یہ تھا۔ سائنس اینڈ میڈی ٹیشن (Science and Meditation) ۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور وہاں موضوع پر کئی تقریریں کیں۔ ایک تقریر جس میں مغربی ملکوں کے لوگ شریک تھے اس میں انہوں نے بتایا کہ میڈیٹیشن اور روحانیت کا ذریعہ اسلام میں نماز ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے زبانی تشریح کے علاوہ لوگوں کے سامنے نماز کو عملی طور پر پڑھ کر دکھایا۔

۹ ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۵ نومبر ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر گجرات کی وجہ یاترا سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ انڈیا میں ہر فرقہ کو مذہبی آزادی حاصل ہے مگر ہر آزادی کی ایک حد ہوتی ہے۔ مذہبی آزادی کا حق کسی کو اس

‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues

Printed page