Tolerance is maturity. Tolerance is the ability
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۴۱
وقت تک ہے جب تک وہ دوسروں کے لئے مضر نہ بنے۔ دوسروں کے لیے مضر بنتے ہی اس کی آزادی کا حق ختم ہو جائے گا۔
یونیسکو کی سرپرستی میںوومن کولیشن (Womens' Coalition) نے انڈیا انٹر نیشنل سنٹر میں ایک سیمینار کا اہتمام کیا۔ یہ سیمینار ۱۶ نومبر ۲۰۰۲ کو انٹرنیشنل ڈے آف ٹالرنس ۲۰۰۲ (International Day of Tolerance 2002) کے موقع پر کیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور ٹالرنس کے موضوع پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک تقریر کی ۔ اس سلسلہ میں انہوں نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ٹالرنس کوئی سرنڈر (Surrender) نہیں ہے۔ وہ پختگی کا اظہار ہے۔ ٹالرنس یہ ہے کہ آدمی ان چیزوں کے ساتھ پرامن طور پر رہ سکے جن کو وہ بدل نہیں سکتا:
Tolerance is maturity. Tolerance is the ability
نئی دہلی کے انگریزی ماہنامہ لائف پازیٹیو (Life Positive) کی کرسپانڈنٹ سسمتا ساہا (Susmita Saha) نے ۲۲ نومبر ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع اسلامی میڈیٹیشن تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ میڈیٹیشن کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جس میں آدمی خود اپنے اندر دھیان لگاتا ہے۔ یہ میڈیٹیشن آنکھ بند کر کے کیا جاتا ہے۔ اس میں سوچ کو معطل کر کے خاموشی کی دنیا میں پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دوسرا میڈیٹیشن جو اسلامی میڈیٹیشن ہے وہ خدا پر مبنی ہے۔ اس میں سارا دھیان خدا کی طرف لگایا جاتا ہے۔ پہلی قسم کے میڈیٹیشن میں فائنڈر اور فائنڈنگ دونوں ایک ہوتے ہیں ۔ مگر دوسری قسم کے میڈیٹیشن میں فائنڈر الگ ہوتا ہے اور فائنڈنگ الگ ۔ اس میں انسان فائنڈر ہوتا ہے اور خدا فائنڈنگ ۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ صوفی ازم میں جو نئے طریقے شامل کئے گئے وہ اسلام میں ریفارم نہ تھا بلکہ صرف ایک قسم کا جزئی اضافہ تھا۔
ڈیلی امریکی اخبار ایری زونا ری پبلک (Daily Arizona Republic) کی کالمسٹ
‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues