Tolerance is maturity. Tolerance is the ability
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۴۲
منطوشی دیو جی (Mantoshe Devji) نے ۳۰ نومبر ۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اسلام اور مسلمانوں سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اسلام کا کوئی نیا انٹرپریٹیشن (current interpretation) نہیں ہے۔ اسلام کی تمام تعلیمات ابدی ہیں۔ آج کل اسلامی جہاد کے نام پر مختلف مقامات پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسلام نہیں ہے۔ وہ اسلام کا خود ساختہ انٹرپریٹیشن ہے۔ اسلام مکمل طور پر پر امن طریق کار کی حمایت کرتا ہے۔ متشددانہ طریق کار کی اسلام میں کسی بھی حال میں گنجائش نہیں۔ ۱۳| انڈین سنٹر فار فیلانتھراپی کے تحت ۲ دسمبر ۲۰۰۲ کو انڈیا ہیبیٹٹ سنٹر نئی دہلی میں ایک سیمینار ہوا_ اس کا موضوع Religion and Social Development تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور حسب ذیل موضوع پر اس میں ایک تقریر کی : Role of Islam in Social Development اس تقریر میں قرآن وحدیث کے حوالوں سے بتایا گیا کہ اسلام کی بنیاد انسانیت کی خیر خواہی پر ہے_ توحید کے بعد اسلام میں سب سے زیادہ جس چیز پر زور دیا گیا ہے وہ یہی انسانی خیر خواہی ہے۔ اس انسانی خیر خواہی کی تکمیل کے لئے اسلام میں جو معاشرتی احکام دئے گئے ہیں ان کا ایک خاکہ لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ یہ سارا پروگرام انگریزی میں تھا۔ اس موقع پر سوامی گوگانندا نے اس موضوع پر ہندو نقطہ نظر پیش کیا اور فادر والسن تھمیو نے مسیحی نقطہ نظر پیش کیا۔ ۱۴| نئی دہلی کے ادارہ سمپر دان (Sampradaan) کے تحت انڈین سینٹر فار فیلان تھراپی (Indian Centre for Philanthropy) میں ۳ دسمبر ۲۰۰۲ کو ایک پروگرام ہوا۔ اُس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی اور ریلیجیوس چیریٹی (Religious Charity) کے موضوع پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک تقریر کی۔
۱۵| حیدر آباد میں ۷۔ ۸ دسمبر ۲۰۰۲ کو تھنکرس میٹ (Thinkers' Meet) کے نام سے ایک سیمینار ہوا۔ اس کا اہتمام وگیان بھارتی مہارشی بھاردواج سوسائٹی اے ۔ پی کی طرف سے کیا
‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues