Tolerance is maturity. Tolerance is the ability
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۴۳
گیا تھا۔ اس میں اعلی تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ ۷ دسمبر کی صبح کو وہ حیدر آباد پہنچے اور ۱۱ دسمبر ۲۰۰۲ کو واپسی ہوئی۔ اس موقع پر سیمینار کے علاوہ مختلف اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا۔ سیمینار کا موضوع انڈینائزیشن آف ایجوکیشن (Indianization of Education) تھا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہمارے سماج میں جو بگاڑ آیا ہے اس کا حل انڈینائزیشن نہیں ہے بلکہ اسپر پچولا یئریشن (spiritualization) ہے۔ وسیع کوشش کے ذریعہ لوگوں کی سوچ کو بدلنا ہے۔ لوگوں کے اندر اخلاقی اور روحانی انقلاب لانا ہے۔ اس کے بعد ہی ہمارے سماجی حالات درست ہوں گے۔
۱۶ آؤٹ لُک میگزین (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر رنجیت بھوشن نے ۱۹ دسمبر ۲۰۰۲ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ پالیٹکس میں آئیڈیل نہیں چلتا، پالیٹکس میں ہمیشہ پرکٹکل چلتا ہے۔ مسلمانوں کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ پالیٹکس میں آئیڈیل چلانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لمبی کوشش کے باوجود وہ کوئی سیاسی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا گیا کہ الیکشن کے وقت مسلمانوں کو مقامی حالات کی روشنی میں الیکشن پالیسی بنانا چاہئے ، نہ کہ ملکی نقشہ کے مطابق۔
۱۷ نیشنل ڈیولپمنٹ اور اسلامی ریسرچ فاؤنڈیشن کی طرف سے سہارنپور میں ۲۲ دسمبر ۲۰۰۲ کو ایک آل انڈیا کا نفرنس ہوئی۔ یہ پروگرام شہر کے پنجاب ہوٹل میں کیا گیا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے سہارنپور کا سفر کیا۔ وہاں کئی پروگرام ہوئے— پنجاب ہوٹل میں پریس کانفرنس، پنجاب ہوٹل کے عمومی جلسہ میں تقریر ، خواتین کی تنظیم تیور (TEVOR) کی طرف سے کئے گئے ایک جلسہ میں تقریر، وغیرہ۔ ان تقریروں میں اسلام اور روحانیت کے پہلو سے وضاحت کی گئی۔
۱۸ گاندھی دھام (نئی دہلی) میں ۲۴ دسمبر ۲۰۰۲ کو عید ملن کا ایک پروگرام ہوا۔ اس میں بڑی
‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues