Tolerance is maturity. Tolerance is the ability
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۴۴
تعداد میں سیاسی اور سمابی شخصیتیں شریک ہوئیں۔ اُس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی اور وہاں ایک تقریر کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ عید ملن کا تصور بہت مفید تصور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملن کا اصول پوری کائنات میں جاری ہے۔ کائنات کی ہر چیز مختلف چیزوں کے ملنے سے بنتی ہے۔ یہاں کی ہر چیز مجموعہ کے روپ میں ہے۔ گویا ملن کلچر ہی عالمی کلچر ہے۔ ملن کلچر کے اسی فطری طریقہ کو انسانی زندگی میں بھی اختیار کرنا چاہئے۔ ہر قسم کی ترقی ملن کلچر کے ماحول ہی میں ہوسکتی ہے۔ ملن کلچر امتزاج کا نام نہیں ہے بلکہ تنوع کو رواداری کے جذبہ کے ساتھ قبول کرنے کا نام ہے۔
۱۹ | دہلی کے اُردو روزنامہ راشٹریہ سہارا کے نمائندہ مسٹر ودود ساجد نے ۲۶ دسمبر ۲۰۰۲ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اسلام کے نام پر قتل کرنا بلا شبہ ایک قابل مذمت کام ہے۔ برائی عام حالات میں بھی برائی ہے اور جو برائی اسلام کے نام پر کی جائے اُس کا جرم اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
۲۰ | مودی ہاؤس (نئی دہلی) میں ۲ جنوری ۲۰۰۲ کو ایک جلسہ ہوا۔ یہ جلسہ ڈاکٹر جی کے مودی کے جنم دن کی تقریب میں تھا۔ اس موقع پر مختلف مذاہب کے نمائندوں کو بلایا گیا تھا کہ وہ اپنے مذہب کی روشنی میں مساوات اور انسانیت کے موضوع پر اظہار خیال کریں۔ صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر اسلام کی روشنی میں موضوع پر ایک تقریر کی۔ موقع کے لحاظ سے یہ تقریر انگریزی زبان میں تھی۔
۲۱ | ای ٹی وی (Ernadu TV) نے جنوری ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو کمپنی کے نائڈا کے اسٹوڈیو میں ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر حج سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ کمبھ میلا اور حج میں کوئی مشابہت نہیں۔ کمبھ میلا گنگا کی معبودیت کے تصور پر قائم ہے۔ جب کہ حج صرف ایک اللہ کی پرستش کے تصور پر۔ ایک اور سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ حجر اسود اور شیولنگ میں کوئی مشابہت نہیں۔ شیولنگ کو اس کے پرستار افزائش نسل کا
‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues