Speed thrills but kills.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳
میں نے اپنے تجربہ میں اکثر یہ پایا ہے کہ جو لوگ کسی مادی شعبہ میں بہت زیادہ کامیاب ہوتے ہیں وہ اپنے مخصوص شعبہ کے علاوہ دوسرے معاملات میں تفکیری انداز سے سوچ نہیں پاتے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ وہ اپنی ساری فکری صلاحیت کو صرف ایک پسندیدہ رخ پر مرکوز کر دیتے ہیں۔ اس لئے ایک مخصوص شعبہ میں تو ان کی معلومات بہت زیادہ ہوتی ہیں مگر دوسرے شعبہ میں ان کی واقفیت بقدر ضرورت بھی نہیں ہوتی۔
یہاں انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس کا شمارہ ۲ جون ۲۰۰۲ دیکھا۔ اس میں ایک سبق آموز رپورٹ تھی۔ یہ رپورٹ اخبار کے ہفتہ وار کالم انٹرویو آف دی ویک (Interview of the Week) کے تحت چھپی تھی۔ مسٹر یشونت راج نے مشہور لیڈر نٹور سنگھ سے انٹرویو کر کے یہ رپورٹ تیار کی۔ اخباروں میں یہ خبر آچکی ہے کہ مسٹر نٹور سنگھ کے یہاں دوز بر دست خاندانی حادثے ہوئے۔ ان کی بہو نتا شا نے مارچ ۲۰۰۲ میں اور ان کی بیٹی ریتو نے اپریل ۲۰۰۲ میں خودکشی کر لی۔ یہ مسٹر نٹور سنگھ کے لیے بڑا سخت حادثہ تھا۔ اس کے بعد کانگریس کی صدر مسز سونیا گاندھی ان کے یہاں تعزیت کے لئے گئیں۔ مسز سونیا گاندھی جب وہاں پہنچیں تو اس وقت مسٹر نٹور سنگھ اپنے گھر کے کمرۂ مطالعہ (study) میں تھے۔ یہاں کتابوں سے بھری ہوئی الماریاں ہر طرف دکھائی دیتی تھیں۔ غمزدہ نٹور سنگھ نے رپورٹر سے کہا کہ سونیا گاندھی جب یہاں آئیں تو میں اپنی اسٹڈی میں تھا جہاں تقریباً دس ہزار کتابیں موجود ہیں۔ میں نے سونیا سے کہا کہ یہاں ساری دنیا کی حکمت و دانش موجود ہے، مختلف ادوار کی حکمت و دانش کا خلاصہ۔ مگر یہاں ایک بھی کتاب ایسی موجود نہیں جس کو پڑھ کر میں تسکین حاصل کر سکوں:
Within an hour of my daughter taking her life, Sonia came to see us. We were in our study upstairs—where I have close to 10,000 books. I told her, here you have the wisdom of the world, wisdom of the ages in concentrated form, but there is not a book I could pick up to console myself. (p. 14)
‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues