Al-Risala · January 2003 · page

Don't preach, just teach.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

اسی اخبار میں صفحہ ۱۰ پر ایک سبق آموز رپورٹ تھی جس کا عنوان تھا— نصیحت نہ کرو بلکہ تعلیم دو:

Don't preach, just teach.

۲ جون کی صبح کو ۱۰ بجے یہاں کے وسیع ہال میں ایک جلسہ تھا۔ اس میں گانے بجانے کے پروگرام کے علاوہ ایک خصوصی پروگرام تھا۔ وہ بھگوت کتھا (کرشن کتھا) کا پروگرام تھا۔ اس پروگرام کو شری کانت ویاس نے کیا۔ وہ بھگوت کتھا کے ایکسپرٹ مانے جاتے ہیں۔

اس پروگرام میں مجھے اسٹیج پر بٹھایا گیا تھا۔ ہال کے اندر بڑی تعداد میں مرد اور عورتیں موجود تھیں ۔ ہر ایک خوشی سے سرشار دکھائی دیتا تھا۔ مگر میرا حال یہ تھا کہ میں شدید غم کی وجہ سے مسلسل رو رہا تھا۔ میں دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کر رہا تھا کہ خدایا، یہ لوگ میرے وطنی بھائی ہیں۔ تو ان کے لئے ہدایت کے دروازے کھول دے، تو ان کو جنت کا مسافر بنا دے۔

ایک بات کو سوچ کر میرا دل ہمیشہ تڑپ اٹھتا ہے۔ ہندوستان کے مسلم علماء اور مسلم دانشور عام طور پر یہ شکایت کرتے ہیں کہ یہاں کے مسلمانوں کے ساتھ ظلم اور تعصب کا معاملہ کیا جاتا ہے۔ مگر میرے نزدیک اس ملک میں ہمارے لئے جو سب سے بڑی مصیبت پیدا ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرت اور تناؤ کا ماحول قائم ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ناممکن ہو گیا ہے کہ معتدل فضا میں کھلی بات چیت (open dialogue) کیا جاسکے۔ مسلمان ایک عالمی مشن کے حامل ہیں۔ اس اعتبار سے سب سے زیادہ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ مسلمانوں اور دیگر اقوام کے درمیان آزادانہ ڈائیلاگ کے مواقع موجود ہوں ۔ مگر مسلم رہنماؤں اور مسلم دانشوروں کی ناقابل فہم نادانی کی بنا پر سب سے زیادہ ملک میں اس مطلوب چیز کا خاتمہ ہو گیا۔ مسلمانوں کے اوپر لازم ہے کہ وہ یک طرفہ صبر و اعراض کے ذریعہ دوبارہ ایسا ماحول قائم کریں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو مجھے اندیشہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کے یہاں قابل معافی نہ ٹھہریں گے ، خواہ انہوں نے شاندار مسجدیں بنا رکھی ہوں اور بظاہر ان مسجدوں کو نمازیوں سے بھر دیا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page