احمد آباد کا سفر
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
جوتروینی کلا کیندر میں منعقد کیا گیا تھا۔ اس سیمینار کا موضوع تھا: دین دیال اپادھیائے، بحیثیت صحافی۔ سیمینار کے منتظمین کے اصرار پر مجھے اُس میں شرکت کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وقت ہونے پر ہم آپ کو سیدھے ایئرپورٹ پہنچا دیں گے۔ چنانچہ اس سیمینار میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کے لیے شریک ہوا۔ یہ سیمینار آرایس ایس کے گروپ نے منعقد کیا تھا۔
اس سیمینار کے مقررین میں سے ایک شری وید جی تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کافی صاف گوئی سے کام لیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ آرایس ایس کی پتریکارتا کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہو چکی ہے۔ مگر آرایس ایس کی پتریکارتا کبھی بھی دیش کی مکھیہ دھارا نہیں بنی۔ آرایس ایس کے کسی بھی اخبار کی اشاعت ۵۰ ۔ ۶۰ ہزار سے زیادہ نہیں ۔ جب کہ دوسرے اخبارات لاکھوں کی تعداد میں چھپتے ہیں اور عمومی طور پر پڑھے جاتے ہیں۔ بظاہر حالات میں آگے بھی زیادہ کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔
میں نے ایک صاحب سے کہا کہ آپ لوگ ہندوتوا کا ایجنڈا کیسے چلائیں گے۔ آج ڈیما کریسی کا زمانہ ہے۔ آج وہی ایجنڈا چل سکتا ہے جس کو زیادہ لوگوں کی تائید حاصل ہو۔ ایسی حالت میں آپ دیش میں جلسہ جلوس کی سیاست تو چلا سکتے ہیں مگر اپنے ایجنڈے کو عملاً دیش میں لاگو نہیں کر سکتے۔ انہوں نے میری بات کا انکار نہیں کیا۔
۲۵ جنوری کی سہ پہر کو ایرپورٹ کے لیے روانگی ہوئی۔ ہماری گاڑی کا ڈرائیور ایک ۲۶ سالہ راجپوت نوجوان تھا۔ وہ بہار کا رہنے والا تھا۔ اُس نے بتایا کہ آٹھویں کلاس میں فیل ہو گیا تھا۔ اُس کے بعد میں نے تعلیم چھوڑ دی۔ اب میں پچھتاتا ہوں۔ کیوں کہ علم کے بغیر میں کوئی بڑی ترقی نہیں کر سکتا۔ نو جوانی کی عمر میں اکثر لوگ اس قسم کی غلطیاں کرتے ہیں اور پھر زندگی بھر اُن کو اس کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے۔
میں نے پوچھا کہ وہ گاؤں چھوڑ کر دہلی کیوں آگیا۔ اُس نے کہا کہ گاؤں میں تو ہر روز لڑائی جھگڑا رہتا ہے۔ یہاں شہر میں شانتی ہے۔ دن بھر کماؤ اور رات کو سو جاؤ۔ میں نے سوچا کہ یہی وہ چیز ہے