احمد آباد کا سفر
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
جس نے یہ مسئلہ پیدا کیا ہے کہ گاؤں کی آبادی کم ہو گئی ہے اور شہر کی آبادی بڑھ گئی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کی طرح اگر گاؤں میں کام کے مواقع ہوتے تو کبھی یہ مسئلہ پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ دہلی ایر پورٹ پر ایک تعلیم یافتہ ہندو سے گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یوگا صرف جسمانی ورزش نہیں ہے۔ یوگا روحانیت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ میں نے کہا کہ کیسے ۔ انہوں نے کچھ جسمانی ورزشیں بتائیں۔ مثلاً آنکھ بند کرنا، خاص طریقہ سے سانس لینا، خاص طریقہ سے بیٹھنا، وغیرہ۔ میں نے کہا کہ جو طریقے آپ نے بتائے وہ سب جسمانی عمل ہیں۔ پھر جسمانی عمل سے روحانی ترقی کیسے ہو سکتی ہے۔
اس کے بعد انہوں نے کچھ اور باتیں بتائیں جس کا خلاصہ یہ تھا کہ خاموش ہو کر اپنی سوچ کے عمل کو روک دیا جائے۔ میں نے کہا کہ یہ بھی کم از کم میرے لیے ناقابل فہم ہے۔ کیوں کہ مسئلہ سوچ کے عمل کو روک کر اپنے آپ کو صفر کی حالت میں لے جانا نہیں ہے بلکہ خود سوچ کے عمل کو بیدار کرنا ہے۔ کیوں کہ آپ ہمیشہ صفر کی حالت میں نہیں رہ سکتے۔ آپ بہر حال کچھ دیر کے بعد صفر سے باہر آئیں گے اور پھر سوچ کا وہی معاملہ شروع ہو جائے گا جو صفر میں جانے سے پہلے تھا۔
انہوں نے کہا کہ یوگا کا یہی طریقہ کم و بیش تصوف میں بھی پایا جاتا ہے۔ پھر اُس کے بارہ میں آپ کیا کہیں گے۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں تصوف پر بھی میرا وہی تبصرہ ہے جو یوگا پر ہے۔ جہاز دہلی سے احمد آباد کے لیے ٹھیک وقت پر روانہ ہوا۔ راستہ میں کئی اخبارات دیکھے۔ ایک اخبار میں بتایا گیا تھا کہ دہلی پریاگ راج ایکسپریس میں ۲۴ جنوری کو ایک حادثہ ہونے سے بچ گیا۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ میٹھا کے قریب ٹرین کا ایک ڈبہ پٹری سے اتر گیا۔ لیکن اسٹیشن ماسٹر غلام قادری کی حاضر دماغی کے باعث یہ حادثہ ٹل گیا۔ رات کے ایک بجے جب یہ ٹرین میٹھا اسٹیشن سے گذر رہی تھی تو اسٹیشن ماسٹر نے اپنی فراست سے جان لیا کہ ٹرین کے ایک درمیانی ڈبہ میں ایک ٹیکنیکل خرابی آگئی ہے۔ اس نے فوراً ریڈ سگنل فلیش کر دیا اور واکی ٹاکی کے ذریعہ ڈرائیور کو یہ پیغام دیا کہ وہ ٹرین کو فوراً روک دے۔ ڈرائیور نے تیزی سے بریک استعمال کر کے ٹرین کو روک کر اُس