Al-Risala · May 2003 · page

Neelima Adhar, Father Dearest.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۳

حادثہ سے بچالیا۔ اس ٹرین میں مرکزی وزیر مسٹر مرلی منوہر جوشی بھی سفر کر رہے تھے۔ انگریزی اخبار ہندوستان ٹائنس کا شمارہ ۲۵ جنوری ۲۰۰۳ دیکھا۔ اس میں مسٹر خوشونت سنگھ کا ہفتہ وار کالم شامل تھا۔ اُنہوں نے گاندھی کا گجرات نہیں (Not Gandhi's Gujarat) کے عنوان کے تحت لکھا تھا کہ اکثر لوگ اس مفروضہ میں جی رہے تھے کہ گجرات گاندھی کی ریاست ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ گجرات پر گاندھی کا کوئی اثر نہیں۔ جن سیوکوں نے اجودھیا کی بابری مسجد کو ڈھایا تھا اُن میں زیادہ تعداد گجرات کے نو جوانوں کی تھی۔ پھر یہی گجرات ہے جہاں مارچ ۲۰۰۲ میں بھیانک فرقہ وارانہ فساد ہوا۔ ایک گاندھیئن اسکالر نگین داس سنگھوی نے لکھا ہے کہ گاندھی اگر چہ گجرات کے تھے لیکن گجرات گاندھی کا نہیں تھا:

Though Gandhi did belong to Gujarat, Gujarat no longer belonged to Gandhi and probably never did. اس آرٹیکل کا ایک حصہ رام کرشن ڈالمیا (۱۸۹۳ء - ۱۹۷۸ء) کے بارہ میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ڈالمیا جو برلا اور ٹاٹا کے بعد ہندوستان کے سب سے بڑے صنعت کار تھے، اُن کی چھ بیویاں تھیں اور اُن سے اُن کے ۱۸ بچے تھے۔ اُن کی ایک لڑکی نیلما نے اپنی سوانح عمری میں ڈالمیا کی زندگی کے بہت سے دلچسپ پہلو بتائے ہیں۔ اس سوانح عمری کا ٹائٹل یہ ہے:

Neelima Adhar, Father Dearest.

پرواز کے دوران انڈین ایر لائنز کا فلائٹ میگزین سواگت (جنوری ۲۰۰۳) دیکھا۔ اُس کے ایک مضمون کا عنوان تھا ۔ ایک خواب جو پورا ہو گیا:

A Dream Comes True

مضمون نگار کا نام آدتی بشنوئی تھا۔ اس مضمون میں ساگر اسکول کا ذکر تھا جو اَلور (راجستھان) میں قائم کیا گیا ہے۔ یہ ایک انگلش میڈیم اسکول ہے۔ اُس کے بانی ڈاکٹر وڈیا ساگر نے اسکول کے مقاصد بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اچھے انسان بنائیں جو اس قابل ہوں کہ وہ زندگی کی ہر صورت حال سے نپٹ سکیں، آسانی کے ساتھ اور اعتماد کے ساتھ:

‹ Previous page Next page › Contents of May 2003 All issues

Printed page