Be always positive
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں کامیاب ہونے کے لیے یہ صفت بے حد ضروری ہے۔ دنیا میں ہر آدمی کو مختلف حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔ ضرورت ہے کہ آدمی کے پاس ایک ایسا ماسٹر فارمولا ہو جو ہر صورت حال میں اُس کے کام آ سکے۔ یہ ماسٹر فارمولا میرے نزدیک یہ ہے — ہر حال میں مثبت روش پر قائم رہیے:
Be always positive
ڈیڑھ گھنٹہ کی پرواز کے بعد جہاز احمد آباد کے ایر پورٹ پر اُترا۔ لینڈنگ ایسی تھی جیسے جہاز اچانک زمین پر گر پڑا ہو۔ جہاز کے پہیے خصوصی طور پر بہت مضبوط بنائے جاتے ہیں ورنہ وہ اس طرح کی لینڈنگ کا تحمل نہ کر سکیں۔
ایر پورٹ پر جو ہر بھائی اور فرید بھائی، وغیرہ موجود تھے۔ اُن کے ساتھ روانہ ہو کر ہوٹل آرام پہنچا۔ یہاں کے کمرہ نمبر ۲۰۳ میں میرا قیام تھا۔
۲۵ جنوری کو ایر پورٹ سے محمد حسن جوہر صاحب کی کار پر شہر کے لیے روانگی ہوئی۔ پیچھے کی سیٹ پر میں اور جوہر صاحب بیٹھے تھے اور آگے ایک نو جوان گاڑی چلا رہا تھا۔ جو ہر صاحب بار بار ڈرائیور کو ’بیٹے‘ کے لفظ سے خطاب کرتے تھے۔ بیٹے ادھر سے چلو، بیٹے اس طرح گاڑی چلاؤ۔ جوہر صاحب کے اس اندازِ خطاب سے میں سمجھا کہ جونو جوان گاڑی چلا رہا ہے وہ جوہر صاحب کا صاحب زادہ ہے۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ وہ ملازم تھا۔ اس ۲۴ سالہ ڈرائیور کا نام حیدر تھا۔ گجرات کے فساد میں وہ بے روزگار ہو گیا تھا۔ اس کے بعد جو ہر صاحب نے اُس کو اپنے یہاں رکھ لیا۔ ۲۵ جنوری کی شام کو جب میں ہوٹل آرام میں پہنچا تو وہاں میرا پہلا تجربہ بڑا انوکھا تھا۔ اس ہوٹل کے مالک علی بھائی جی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گجرات کے فساد (مارچ ۲۰۰۲) میں یہ ہوٹل جلا دیا گیا تھا۔ مگر چار مہینہ کے اندر ہم نے اس کو دوبارہ بنالیا۔ میں نے غور کیا تو وہاں ہوٹل کے جلائے جانے کا کوئی نشان مجھ کو نظر نہیں آیا۔ علی بھائی جی سے میں نے پوچھا کہ ہوٹل کو دوبارہ یہاں بناتے ہوئے کیا