Be always positive
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
آپ کو ڈر نہیں لگا۔ انہوں نے فوراً کہا کہ نہیں صاحب، خدا جب ہمارے ساتھ ہے تو ڈر کیسا۔ احمد آباد پہنچتے ہی یہ تجربہ جو مجھے ہوا وہ میرے لیے بڑا حوصلہ افزا تھا۔ احمد آباد میں اگر ایک طرف یہ مثال ہے کہ انسان پر جب نفرت کا دورہ پڑتا ہے تو وہ کیسے بھیا نک واقعات کر سکتا ہے۔ دوسری طرف اسی احمد آباد میں انسانی شخصیت کا یہ دوسرا پہلو بھی دکھائی دیتا ہے کہ انسان جب عزم کر لیتا ہے تو کوئی بھی حادثہ اُس کو زیر نہیں کر پاتا۔ ہر بار گرنے کے بعد وہ دوبارہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ انسان کے سفر میں وقفہ تو آ سکتا ہے مگر انسان کے سفر کو کبھی ہمیشہ کے لیے روکا نہیں جا سکتا۔ احمد آباد ریاست گجرات کا سب سے بڑا شہر ہے۔ وہ سا برمتی ندی کے کنارے واقع ہے۔ گجرات کے مسلم حکمراں سلطان احمد شاہ نے ۱۴۱۱ء میں احمد آباد کا شہر بسایا تھا۔ ۱۵۷۲ میں احمد آباد مغل شہنشاہ اکبر کے قبضہ میں آیا۔ ۱۸۱۸ میں وہ برٹش حکومت کے تحت آگیا۔ احمد آباد میں پہلی کاٹن مل ۱۸۵۹-۶۱ میں قائم کی گئی۔ اس وقت احمد آباد انڈیا کا ساتواں سب سے بڑا شہر ہے۔ احمد آباد عارضی طور پر ۱۹۶۰ میں گجرات کی راجدھانی بنا۔ ۱۹۷۰ میں ریاستی ایڈمنسٹریشن گاندھی نگر میں قائم کیا گیا۔ شہر کی تقریباً آدھی آبادی کا معاشی انحصار کاٹن انڈسٹری پر ہے۔ ۲۵ جنوری کی شام کا کھانا جو ہر صاحب کی رہائش گاہ پر کھایا۔ جوہر صاحب نے گجرات کے فساد سے پہلے یہ طے کر لیا تھا کہ وہ نیوزی لینڈ جائیں گے اور وہاں سے اپنا کاروبار کریں گے۔ اُن کی اہلیہ ذکیہ نیوزی لینڈ پہنچ چکی تھیں۔ اس درمیان میں گجرات کا فساد ہو گیا۔ جو ہر صاحب کو اس سے سخت دھکا لگا۔ انہوں نے سوچا کہ مظلوموں کو اس طرح چھوڑ کر میں کیسے نیوزی لینڈ جا سکتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ کم از کم فی الحال احمد آباد میں رہ کر اپنا کام کریں گے۔ اُن کی اہلیہ بھی نیوزی لینڈ سے واپس آگئیں ۔ اب یہ لوگ پوری طرح انسانی خدمت اور سوشل سروس کا کام کر رہے ہیں۔ یہاں کھانے کی میز پر سراج بھائی بھی موجود تھے۔ وہ بہت متحرک آدمی ہیں اور یہاں گجرات ٹوڈے کے نام سے گجراتی زبان میں ایک روزانہ اخبار نکالتے ہیں۔ اس اخبار کی اشاعت ایک لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ اس اخبار کے پڑھنے والوں میں ۷۰ فیصد مسلم ہیں اور ۳۰ فیصد غیر مسلم ہیں۔