Al-Risala · May 2003 · page

Be always positive

الرسالہ، مئی ۲۰۰۳

سراج بھائی چاہتے ہیں کہ گجرات ٹوڈے کو ایک تعمیری تحریک بنا دیں۔ وہ اُس میں ایسے مضامین اور رپورٹیں شائع کرنا چاہتے ہیں جو مسلمانوں کو تعمیر و ترقی پر ابھارنے والے ہوں۔ پچھلے کچھ دنوں سے مسلمانوں میں سب سے زیادہ تذکرہ عراق اور گجرات کا ہوتا ہے۔ دونوں ہی تذکرے منفی انداز میں ہوتے ہیں۔ ہر ایک کے پاس شکایت اور احتجاج کے الفاظ کا ڈھیر ہے اور وہ ہر مجلس میں اور ہر جگہ اُن کو بکھیرتا رہتا ہے۔ مجھے اپنے تجربہ میں کوئی ایسا مسلمان نہیں ملا جو یہ کہے کہ آؤ، ہم اپنے مسائل کا حل قرآن میں دریافت کریں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو بہت جلد وہ دریافت کرتے کہ قرآن میں اس کی بابت یہ واضح آیت موجود ہے: وما اصابکم من مصيبة فبما كسبت ايديکم (الشوریٰ ۳۰)۔ یعنی اور جو پڑے تم پر کوئی سختی سو وہ بدلا ہے اُس کا جو کمایا تمہارے ہاتھوں نے (ترجمہ شیخ الہند)

اس آیت کے تحت مولا ناشبیر احمد عثمانی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے: بندوں کو جو کوئی سختی اور مصیبت پیش آئے اُس کا سبب قریب یا بعید بندوں ہی کے بعض اعمال وافعال ہوتے ہیں (صفحہ ۲۳۱) قرآن کی ایک آیت کو بھلانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کو اپنے مسائل کے بارہ میں سوچنے کا صحیح نقطہ آغاز ہی نہیں ملا۔ قرآن کے مطابق ، سوچنے کا صحیح نقطہ آغاز یہ تھا کہ مسلمان داخلی احتساب کو اس معاملہ میں اپنا نقطہ آغاز بنائیں۔ مگر وہ برعکس طور پر خارجی شکایت و احتساب کو اپنا نقطہ آغاز بنائے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں یہی ممکن ہے کہ مسلمانوں کو نہ اپنے مسئلہ کی نوعیت معلوم ہو اور نہ اٗس کا حقیقی حل۔

احمد آباد میں ایک سال پہلے بھیانک فساد ہوا تھا۔ موجودہ سفر میں مجھ کو بہت سے ایسے مسلمان ملے جنہوں نے اپنے گھر اور دُکان کو دکھایا۔ اُنہوں نے بتایا کہ یہ سب ایک سال پہلے جل چکے تھے۔ مگر آج دیکھئے تو وہاں کھنڈر کے بجائے نئی تعمیر کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ زندگی دوبارہ معمول پر آتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر خالق نے عجیب وغریب صفت رکھی ہے۔ انسان کے جسم میں ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کا ایک خودکار نظام قائم ہے۔ یہی معاملہ انسانی ذہن کا ہے۔ انسان اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of May 2003 All issues

Printed page