Be always positive
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳، صفحہ ۱۰
فطرت کے زور پر بربادی کے بعد دوبارہ تعمیر کی لامحدود صلاحیت رکھتا ہے۔
میرے نزدیک گجرات کے حادثہ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اس دنیا میں تخریب وقتی ہے اور تعمیر ابدی۔ کوئی شخص آپ کو وقتی یا جزئی طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے مگر کوئی بھی اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ فطرت کے قانون کو بدل سکے۔ ہر تخریب کے مقابلہ میں آخر کار فطرت کا قانون غالب آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں ہم بار بار دیکھتے ہیں کہ زندگی کا قافلہ وقتی ٹھہراؤ کے بعد دوبارہ نئی طاقت کے ساتھ سرگرم سفر ہو گیا۔
گجرات کے سفر میں مجھے جو مسلمان بھی ملا، ہر ایک نے یہی کہا کہ گجرات کا فساد ایک منصوبہ بند فساد تھا، وہ سازش کے تحت کیا گیا۔ میں نے کہا کہ یہ سب ہمارے لکھنے اور بولنے والوں کی باتیں ہیں جن کو آپ پڑھ کر یا سن کر دہرا رہے ہیں۔ اس طرح کے معاملہ میں قرآن میں بھی ایک واضح بات لکھی ہوئی ہے۔ مگر آپ حضرات نے اُس پر غور نہیں کیا۔ اس لیے کہ آپ نے قرآن کو کتاب تدبر نہیں بنایا، آپ نے قرآن کو صرف کتاب تلاوت بنانے کو کافی سمجھ لیا۔
میں نے کہا کہ قرآن میں واضح طور پر یہ آیت موجود ہے: وإن تصبروا و تتقوا لا يضركم كيدهم شيئا (آل عمران ۱۲۰) یعنی اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو اُن کی کوئی بھی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ اس آیت سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان کے لیے اصل مسئلہ سازش کا ہونا نہیں ہے بلکہ صبر اور تقویٰ کا نہ ہونا ہے۔ اگر کسی گروہ کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت موجود ہے تو یہ صبر و تقویٰ ان کے لیے ہر سازش کے خلاف ایک چیک بن جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اگر کوئی مسلم گروہ کسی مخالف گروہ کی سازش کا نشانہ بنے تو یہ یقین کرنا چاہئے کہ صبر و تقویٰ کے نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ ایسے ہر حادثہ کے بعد تمام لکھنے اور بولنے والوں کو صبر اور تقویٰ کی اسپرٹ جگانے پر مصروف ہو جانا چاہئے، نہ یہ کہ وہ مفروضہ دشمنوں کے خلاف شکایت اور احتجاج کی مہم میں لگ جائیں۔
یہاں میری ملاقات جن لوگوں سے ہوئی اُن میں سے ایک محمد حسن جوہر صاحب تھے۔ اُن