Be always positive
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
کے اندر میں نے استثنائی طور پر یہ صفت دیکھی کہ وہ اپنی بات چیت میں ہندو اور مسلمان کے درمیان تفریق اور امتیاز نہیں کرتے تھے۔ وہ ہر ایک کے لیے انسانی انداز میں کلام کرتے تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے اندر یہ سوچ کیسے آئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ اُن کی ماں اس معاملہ میں انسانی مزاج رکھتی تھیں۔ وہ تفریق کی بولی کو ناپسند کرتی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ نو جوانی کی عمر میں ایک بار اُن کے یہاں اسکول کا ایک طالب علم اُن سے ملنے کے لیے آیا۔ جب وہ چلا گیا تو میری ماں نے پوچھا کہ یہ کون تھا۔ میں نے کہا کہ یہ ایک ہندولڑکا تھا جو میرے اسکول میں پڑھتا ہے۔ ماں نے فوراً کہا کہ میں نے لڑکے کا نام پوچھا تھا، میں نے لڑکے کا مذہب نہیں پوچھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ والدہ کی اس طرح کی باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ بچپن ہی سے میرے اندر فرقہ وارانہ تعصب کا مزاج ختم ہو گیا۔ میں ہر ایک کو انسان کی نظر سے دیکھنے لگا، خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔
ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ کچھ لوگ نا سمجھی کے تحت میرے بارہ میں یہ کہتے ہیں کہ میں ہندوؤں کا کٹر حامی ہوں۔ یہ بلاشبہ ایک لغو بات ہے۔ کوئی بھی شخص جو دہلی میں میرے پاس آتا جاتا ہو یا میرے پاس رہتا ہو، اُس سے آپ پوچھیں تو یقینی طور پر وہ کہے گا کہ یہ میرے اوپر سراسر ایک غلط الزام ہے۔ میں نے کہا کہ کوئی شخص میرے نقطۂ نظر سے اختلاف کر سکتا ہے۔ نقطۂ نظر سے اختلاف کرنا عین جائز ہے۔ ہر مدرسہ میں درسِ حدیث کی کلاس میں علماء اور ائمہ کے خلاف کھل کر اظہار خیال کیا جاتا ہے مگر کوئی اُس کو غلط نہیں بتاتا۔ لیکن کسی شخص کو ہندوؤں کا حامی یا ایجنٹ بتانا کردار کشی کی بات ہے اور کردار کشی بلاشبہ حرام ہے۔ کردار کشی ایک ایسا جرم ہے جو اللہ تعالیٰ کے یہاں قابلِ معافی نہیں الاّ یہ کہ آدمی کھلے طور پر اُس سے رجوع کرے۔
۲۶ جنوری کی صبح کو نمازِ فجر کے بعد میں ہوٹل سے باہر نکلا۔ جناب جوہر صاحب کے ساتھ ٹہلتے ہوئے ہم ٹیگور ہال کے علاقہ میں پہنچے اور اس کے پارک میں ٹہلنے لگے۔ یہاں کچھ لوگ ٹہلتے ہوئے دکھائی دیے ۔ وہ میرے پاس آئے اور مجھ کو سلام کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ الرسالہ کے قاری ہیں۔ انہوں