Be always positive
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
نے کہا کہ ہم لوگ نماز فجر سے فراغت کے بعد یہاں ٹہلنے کے لیے آجاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بہت اچھی عادت ہے۔ پھر میں نے انہیں ایک حدیث سنائی۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: من صلی الصبح فہو فی ذمۃ اللہ ( صحیح مسلم کتاب المساجد ، سنن الترمذی کتاب الصلاۃ ، ابن ماجہ کتاب الفتن ، مسند احمد ) یعنی جس نے صبح کی نماز پڑھ لی وہ اللہ کی ذمہ داری میں آ گیا۔ اس حدیث میں نماز فجر کی ادائیگی کا جو فائدہ بتایا گیا ہے وہ کوئی پر اسرار چیز نہیں۔ آپ غور کر کے اس فائدہ کو سمجھ سکتے ہیں۔ نماز ایک اعتبار سے خدا سے قربت تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ دوسرے اعتبار سے وہ تنظیم اوقات ( time management ) کا ذریعہ ہے۔ پانچ نمازوں کی بروقت ادائیگی آپ کے اوقات کو منظم کر دیتی ہے۔ مثلاً صبح کی نماز وقت پر ادا کرنے کا یہ فائدہ ہے کہ آپ صبح کو سویرے اُٹھ جاتے ہیں۔ وضو اور نماز ایک اعتبار سے صبح کی ہلکی ورزش ہے۔ پھر اس کی وجہ سے آپ کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ آپ گھر سے باہر آ کر ٹہل سکیں اور صبح کی آکسیجن لے سکیں۔ اسی طرح صبح کے وقت آپ کی ان سرگرمیوں کے درمیان دوسروں کے ساتھ آپ کا انٹراکشن ہوتا ہے۔ آپ سونے کے کمرے میں گھنٹوں تک پڑے رہنے کے بجائے باہر کی دنیا میں آتے ہیں اور اپنے ذہن کو وسیع کرتے ہیں ، وغیرہ۔
۲۶ جنوری کو صبح کا ناشتہ فرید بھائی کی رہائش گاہ پر تھا۔ یہاں اُن کے صاحب زادگان اور خاندان کے دوسرے لوگ موجود تھے۔ اُن سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ آج کل نوجوانوں میں یہ رجحان ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرکے باہر جانا چاہتے ہیں۔ میں اس رجحان کو غلط سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک اپنا وطن چھوڑنا کسی اعلیٰ مقصد کے لیے تو ضرور درست ہے مگر صرف زیادہ کمائی کے لیے باہر جانا ہرگز درست نہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ من کانت ہجرتہ الی الله ورسوله فہجرتہ الی الله ورسوله و من کانت ہجرتہ الی دنیا یصیبہا، او الی امرأة ینکحہا، فہجرتہ الی ما ہاجر اليه ۔
ہجرت اسلام میں ایک بہت بابرکت عمل مانا گیا ہے۔ مگر اسلام کے مطابق ، مطلوب ہجرت