Don't preach, just teach.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳
شری کانت ویاس کو کتھا کرنے کی خصوصی مہارت حاصل ہے۔ انہوں نے اپنی کتھا میں بہت سی عوام پسند باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ کرشن کے بنا بھی کام چل سکتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ کرشن کے بنا کام ہی نہیں چل سکتا۔ اپنے اس نظریہ کے ثبوت کے لیے انہوں نے ایک مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ آپ سبزی لینے کے لیے بازار جائیں۔ آپ کی چاہ تھی کہ آپ پرول لیں گے۔ لیکن اگر بازار میں پرول نہ ہو تو آپ بھنڈی یا کوئی بھی سبزی لے کر واپس آ جائیں گے۔ لیکن اگر آپ کے گھر میں ایک مریض ہے اور ڈاکٹر کہتا ہے کہ اس کو انار کھلاؤ۔ اب اگر آپ انار لانے کے لیے بازار جائیں اور ایک دکان پر انار نہ ہو تو آپ دوسری دکان پر جائیں گے۔ یہاں تک کہ انار حاصل کرنے کے لئے پورا بازار چھان ماریں گے۔
انہوں نے کہا کہ آج کل لکھ پتی اس کو سمجھا جاتا ہے جس کے پاس لاکھ روپیہ ہو اور کروڑ پتی اس کو سمجھا جاتا ہے جس کے پاس کروڑ روپیہ ہو۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ لکھ پتی وہ ہے جو لاکھ بار کرشن کا نام لے اور کروڑ پتی وہ ہے جو کروڑ بار کرشن کا نام لے۔ میں نے دیکھا کہ مقرر کے اس قسم کے الفاظ کو سن کر حاضرین جوش سے بھر جاتے تھے۔ حالانکہ اگر تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ صرف الفاظ کا کھیل ہے، اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ الفاظ کا یہ کھیل خود مسلمانوں میں بھی اتنا ہی پایا جاتا ہے جتنا کہ دوسرے لوگوں میں۔
انہوں نے کہا کہ گیتامیں ایک بہت بڑی بات کہی گئی ہے۔ مہا بھارت میں جب ارجن لڑائی کے لئے آگے بڑھنے سے ہچکچار ہے تھے تو کرشن نے ان کو اکساتے ہوئے کہا کہ تم سوچتے ہو کہ میں ان زندہ لوگوں کو کیسے ماروں۔ مگر میں تم کو بتا تا ہوں کہ یہ مرتیو نہیں، بلکہ یہ تو چولا بدلنا ہے۔ یہ سن کر میں نے ایک صاحب سے کہا کہ چولا بدلنے کا یہ نظریہ اگر کسی سماج میں عام ہو جائے تو اس سماج کا کیسا عجیب حال ہوگا۔ وہ میری اس بات کو سن کر مسکرا دیے۔
۲ جون کی شام کو خصوصی پروگرام تھا۔ اس پروگرام کے لیے عین گنگا کے اوپر ایک بہت بڑا رنگا رنگ پلیٹ فارم بنایا گیا تھا۔ بہت سی کشتیوں کے اوپر اس پلیٹ فارم کو قائم کیا گیا تھا۔ اس کے اوپر
‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues