Be always positive
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
وہی ہے جو مقصد حق کے لیے کی گئی ہو۔ اس کے برعکس جو آدمی دنیا کو پانے کے لیے ہجرت کرے وہ ممکن ہے کہ دنیا کو پالے مگر وہ خدا کی رضا کو نہیں پا سکتا۔ اس حدیث میں واضح طور پر معاشی اور مادی ہجرت کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کے اندر نہایت گہری حکمت چھپی ہوئی ہے۔ اس کا ایک نمونہ پاکستان میں دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے قیام کے ابتدائی زمانہ میں وہاں بڑی تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ جمع ہو گئے تھے۔ مگر جلد ہی بعد مادی ترقی کے شوق میں لوگ پاکستان چھوڑ کر باہر کے ملکوں میں چلے گئے۔ یہی سب سے بڑا سبب ہے کہ پاکستان نصف صدی سے زیادہ مدت گزرنے کے باوجود اب تک ترقی یافتہ ملک نہ بن سکا۔
۲۶ جنوری کو ہوٹل آرام میں محمد حسن جوہر صاحب سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وہ ایک انسان دوست اور درد مند شخص ہیں۔ اُن سے جو باتیں ہوئیں اُن میں سے ایک یہ تھی کہ میں نے کہا کہ آدمی کو آئیڈیل اور پریکٹیکل میں فرق کرنا چاہیے۔ میں نے پایا ہے کہ اکثر لوگ دونوں میں فرق کو شعوری طور پر نہیں جانتے۔ اس لیے وہ کوئی بڑا کام نہیں کر پاتے۔
میں نے کہا کہ آپ اپنی ذات کے لیے آئیڈیل بن سکتے ہیں مگر جب آپ سماج میں آئیں اور دوسروں کے درمیان کام کریں تو لازمی طور پر آپ کو پریکٹیکل بننا پڑے گا۔ یہ زندگی کی حکمت ہے اور اس حکمت کے بغیر سماجی زندگی میں کوئی نتیجہ خیز کام کرنا ممکن نہیں۔
اکثر لوگ پریکٹیکل نہیں بن پاتے۔ کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پریکٹیکل بننے کا مطلب اصول پر سمجھوتہ کرنا ہے۔ حالاں کہ یہ نا سمجھی کی بات ہے۔ پریکٹیکل بننے کا مطلب اصول پر سمجھوتہ کرنا نہیں ہے بلکہ اصول کو قائم کرنے کے لیے عملی راستہ نکالنا ہے۔ یہ دراصل ایک عملی تدبیر ہے جو آپ کو غیر ضروری ٹکراؤ سے بچاتی ہے۔ یہ تدبیر آپ کی کوشش کو قابل بقا کوشش (sustainable effort) بنا دیتی ہے۔ یہ ایک حکمت ہے جو اس بات کی ضامن ہے کہ آپ غیر ضروری ٹکراؤ سے بچتے ہوئے اپنی کوشش کو مسلسل جاری رکھیں، یہاں تک کہ آپ اپنی منزل تک پہنچ جائیں۔
جو ہر صاحب سے ایک اور موضوع پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور وہ کنفیوژن کا مسئلہ ہے۔ میں نے کہا