Be always positive
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
کہ موجودہ زمانہ میں بے شمار تقریریں ہو رہی ہیں اور بے شمار تحریریں چھپ رہی ہیں۔ لیکن اگر جائزہ لیجئے تو ابھی تک لوگوں پر واضح نہیں کہ ہمارے لیے راہِ عمل (line of action) کیا ہو۔ اس کا سبب کیا ہے۔ میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ لکھنے اور بولنے والے افراد خود کنفیوژن میں مبتلا ہیں۔ وہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں صرف اپنے کنفیوژن کو بکھیرتے ہیں۔ ایسی حالت میں لوگوں کو کوئی واضح راہ عمل کیسے مل سکتی ہے۔
مثال کے طور پر فرقہ واریت (communalism) کے مسئلہ پر پچھلے سو برس میں بے شمار صفحات لکھے اور چھاپے گئے ہیں۔ مگر فرقہ واریت کو ختم کرنے میں وہ کچھ بھی کارآمد نہیں۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اس موضوع پر لکھنے اور بولنے والے تقریباً تمام لوگ ’’انصاف‘‘ کی روشنی میں اس مسئلہ کا حل ڈھونڈھ رہے ہیں۔ حالانکہ اس مسئلہ کا حل صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ یہ نہ دیکھا جائے کہ انصاف اور قانون کا تقاضا کیا ہے۔ بلکہ یہ دیکھا جائے کہ صورت موجودہ کی روشنی میں اُس کا عملی حل کیا ہوسکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس معاملہ میں آئیڈیلزم نہ چلایا جائے بلکہ پریکٹیکل بنیاد پر اُس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس مسئلہ کا واحد حل یہی ہے۔ مگر بدقسمتی سے اب تک کسی نے بھی اس اصلی حل کی طرف نشان دہی نہیں کی۔
ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی ۔ گفتگو کے دوران میں نے دیکھا کہ وہ لمبی چوڑی باتیں کرتے ہیں۔ ساری دنیا کے مسائل کا حوالہ دیتے ہیں۔ تمام ملکی اور غیر ملکی معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ اپنے مشن کو بین اقوامی اصطلاحوں میں بیان کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ طریقہ صحیح نہیں۔ آپ کا فکری فوکس بہت پھیلا ہوا ہے۔ اس فوکس کو سمیٹیے ورنہ آپ اپنے آپ کو ضائع کر دیں گے۔
میں نے کہا کہ سائنسی طرزِ فکر کی ایک شرط یہ ہے کہ آدمی غیر متعلق چیزوں کو حذف کر کے ایک پوائنٹ پر اپنے ذہن کو مرتکز کر سکے۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مشہور واقعہ کے مطابق ، نیوٹن نے دیکھا کہ ایک سیب شاخ سے ٹوٹ کر زمین پر گر پڑا۔ اس واقعہ کے بہت سے پہلو تھے۔ مثلاً یہ کہ