Al-Risala · May 2003 · page

Be always positive

الرسالہ، مئی ۲۰۰۳

سیب کچا ہے یا پکا ۔ اُس کو کسی گلہری نے توڑ کر گرایا ہے یا وہ اپنے آپ گر پڑا ہے۔ درخت کے دوسرے سیبوں کے مقابلہ میں اُس کا سائز چھوٹا ہے یا بڑا ۔ وہ خراب ہے یا اچھا سیب ہے، وغیرہ۔ اس قسم کے مختلف سوالات کو چھوڑ کر اُس نے صرف ایک سوال پر سوچنا شروع کیا۔ وہ کہ یہ سیب شاخ سے ٹوٹ کر نیچے کیوں آیا، وہ اوپر کیوں نہیں چلا گیا۔ اسی ترکیزی فکر کی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ نیوٹن قانون کشش کو دریافت کرے۔ اگر اُس کی سوچ مختلف چیزوں میں بکھر جاتی تو وہ کیہ بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ جدید تعلیم یافتہ تھے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا۔ میں مذہب کی خدمت نہیں کرنا چاہتا بلکہ میں انسان کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ آپ کی یہ سوچ مذہب کے بارہ میں غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ آپ اہل مذاہب کے اندر رسوم وروایات کے ہنگاموں کو دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ یہی مذہب ہے۔ حالاں کہ وہ سرے سے مذہب ہی نہیں۔ مذہب دراصل معرفت حق کا نام ہے اور جب کسی آدمی کو حقیقی معنوں میں حق کی معرفت حاصل ہو جائے تو اُس کے اندر لازمی طور پر انسان کے لیے خیر خواہی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی خیر خواہی کے عملی اظہار کا نام انسانی خدمت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہب اور انسانی خدمت دونوں کے درمیان نہایت گہرا تعلق ہے۔ جہاں سچا مذہب ہو وہاں انسانی خدمت بھی ضرور ہوگی۔ دونوں کا ایک دوسرے سے جدا ہونا ممکن نہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ احمد آباد میں ۱۰ لاکھ مسلمان ہیں۔ مگر یہاں مسلمانوں کا نہ کوئی اچھا تعلیمی ادارہ ہے اور نہ ہی اُن کا کوئی قابل ذکر رفاہی ادارہ۔ اگر یہاں مسلمانوں کے تعلیمی اور رفاہی ادارے ہوتے تو ناممکن تھا کہ یہاں مسلمانوں کے خلاف فساد ہو۔

میں نے کہا کہ آپ کی بات بالکل درست ہے۔ اسلام کی ایک تعلیم یہ ہے کہ مسلمان جہاں بھی ہوں وہاں وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بن کر رہیں ۔ اسی کی منظم صورت کا نام رفاہی ادارہ ہے۔ رفاہی ادارہ اپنی اصل کے اعتبار سے انسانی خدمت ہے۔ مگر اسی کے ساتھ اُس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ جب سماج میں رفاہی کام کیے جائیں تو لوگوں کے اندر باہمی نفرت پرورش نہیں پائے گی۔ لوگ ایک دوسرے کو اپنا سمجھیں گے۔ لوگوں کے درمیان حُسن ظن کی نفسیات کو فروغ ملے گا۔ ایسے ماحول

‹ Previous page Next page › Contents of May 2003 All issues

Printed page